2026-09-20

نارائن پیٹ کے ہونہار حافظ معین الدین احمد مجتبیٰ کا منفرد اعزاز

فجر سے عشاء تک ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ مجید سنایا، محض دو سال میں حفظِ قرآن کی تکمیل

نارائن پیٹ: 15 ستمبر 2026(سماجی خبریں): مدرسہ عرب یہ دارالعلوم صوفیہ، بھیونڈی کالونی، نارائن پیٹ کے ہونہار طالب علم حافظ معین الدین احمد مجتبیٰ ولد علی احمد تاچی نے ایک ہی نشست میں فجر سے عشاء تک مکمل قرآنِ مجید زبانی سنا کر ایک قابلِ تحسین اور یادگار کارنامہ انجام دیا۔ ان کے اس شاندار اعزاز سے نہ صرف مدرسہ عربیہ دارالعلوم صوفیہ کا نام روشن ہوا بلکہ نارائن پیٹ کی علمی و دینی تاریخ میں بھی ایک قابلِ فخر باب کا اضافہ ہوا۔

قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ حافظ معین الدین احمد مجتبیٰ نے محض دو سال کی مختصر مدت میں قرآنِ کریم مکمل حفظ کرکے اپنی غیر معمولی ذہانت، محنت، شوقِ قرآن اور اساتذہ کی تربیت کا ثبوت پیش کیا۔

اس تاریخی حفظِ قرآن کے امتحان کے لیے بیرونِ شہر سے جید و ماہر ممتحن حفاظِ کرام نے خصوصی طور پر تشریف لا کر امتحانی مراحل کی نگرانی فرمائی۔

ان کی کڑی نگرانی میں قرآنِ مجید سنانے کا یہ بابرکت سلسلہ نمازِ فجر کے بعد شروع ہوا اور مسلسل جاری رہتے ہوئے رات 9:30 بجے پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

اس روح پرور موقع پر نارائن پیٹ شہر کی مختلف مساجد کے ائمہ کرام، حفاظِ قرآن اور علمائے دین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مہمانانِ گرامی نے حافظ معین الدین احمد مجتبیٰ کی شاندار کامیابی پر انہیں ان کے اساتذہ اور مدرسہ کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں کیں۔ اس موقع پر طالب علم کے والدین کی بھی خصوصی طور پر دستار بندی اور تہنیت کی گئی۔

محفل کی ایک خاص بات یہ رہی کہ مکہ مسجد کے پیش امام حافظ عبد القیوم صاحب نے اپنی شدید ضعیف العمری کے باوجود خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ انہوں نے اس عظیم کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے طالب علم کو دل کی گہرائیوں سے دعاؤں سے نوازا۔

مسجدِ نور کے پیش امام حافظ فخر الدین تاج نے محفل کے نظم و ضبط کو نہایت عمدگی سے سنبھالا، جبکہ مدرسہ عربیہ دارالعلوم صوفیہ کے ناظم حافظ عبد الرحمن تاچی نے تقریب کے انتظامی امور کو خوش اخلاقی، خلوص اور حسنِ تدبیر کے ساتھ انجام دیا۔

معزز ائئمہ و خطیب حضرات کی شرکت

تقریب میں ناظمِ عیدگاہ حافظ محمد چاند پاشا (لیکچرر) اور مسجدِ عمر بن خطابؓ کے پیش امام مولانا حافظ و قاری فاروق احمد بن مقاشن نے بھی خصوصی شرکت فرمائی۔ انہوں نے مدرسہ کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نو دستارِ فضیلت پانے والے حفاظِ کرام کی صلاحیتوں کی بھرپور ستائش کی اور ان کے لیے مستقبل میں دین و ملت کی خدمت کے حوالے سے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔

حافظ معین الدین احمد مجتبیٰ کی یہ کامیابی ان کے اساتذہ کی محنت، والدین کی دعاؤں اور خود ان کی مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔ ان کا یہ اعزاز نوجوان طلبہ کے لیے شوقِ حفظِ قرآن، محنت اور عزم و استقلال کی ایک روشن مثال ہے۔

اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے اس محفل میں عوام الناس کو مدعو نہیں کیا گیا تھا، اس کے باوجود حفاظِ کرام اور طلبہ کا ایک بڑا جمِ غفیر اس نورانی مجلس کا گواہ بننے کے لیے امنڈ آیا۔ رات ٹھیک دس بجے، حافظ عبد الرحمن تاچی کی رقت آمیز اور روح پرور دعا کے ساتھ اس تاریخی اور بابرکت محفل کا اختتام عمل میں آیا۔ اس موقع پر افراد خاندان نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

پریس نوٹ: حافظ حسن الدین مڑکی ایڈوکیٹ،
ناشر: سماجی خبریں

 

نارائن پیٹ کی معلمہ صباء سلطانہ عالمی تعلیمی مشن کا حصہ، 26 ستمبر کو فن لینڈ روانگی

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے