2026-09-20

ٹرمپ کا روس-ایران پابندی قانون منظور، بھارت اور چین پر 100 فیصد ٹیرف کا اختیار

واشنگٹن، 19 ستمبر 2026: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور ایران کے خلاف پابندیوں میں توسیع سے متعلق "Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026” پر دستخط کرکے اسے قانون کی شکل دے دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق H.R. 5334 کے تحت روس کے خلاف قانونی پابندیوں، ٹیرف اور دیگر ممانعتوں کے اختیارات میں توسیع کی گئی ہے، جبکہ ایران کے خلاف موجودہ پابندیوں کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت روس سے خام تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر صدر ٹرمپ ان ممالک کی امریکی درآمدات پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے جو روسی توانائی کے بڑے خریدار ہوں۔ بھارت اور چین روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہونے کی وجہ سے اس قانون کے ممکنہ دائرۂ اثر میں آتے ہیں۔

روس کے توانائی شعبے اور ’شیڈو فلیٹ‘ کو بھی نشانہ

نئے قانون میں روسی قیادت، توانائی کے شعبے، روسی دفاعی صنعت سے وابستہ افراد اور اداروں کے علاوہ روسی تیل کی برآمدات میں استعمال ہونے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف بھی اقدامات شامل ہیں۔ ان میں ایسے جہازوں کے مالکان، آپریٹرز، مینیجرز اور بیمہ فراہم کرنے والے ادارے بھی شامل ہوسکتے ہیں جو پابندیوں سے بچنے میں روس کی مدد کرتے ہیں۔

ایران کے خلاف پابندیاں بھی برقرار

مزید یہ کہ اس قانون میں Iran Sanctions Act کو مزید پانچ سال تک توسیع دینے کی شق بھی شامل ہے، جس کے ذریعے امریکی حکومت کو ایران کے خلاف موجودہ پابندیوں کے نفاذ کے اختیارات برقرار رہیں گے۔

فیصد ٹیرف ابھی عائد نہیں ہوا

یہاں یہ واضح رہے کہ قانون کے نافذ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت یا چین سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کردیا گیا ہے۔ قانون امریکی صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مقررہ قانونی شرائط پوری ہونے پر ٹیرف نافذ کریں اور اس کی شرح کا تعین کریں۔

قانون کے تحت روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ بڑے خریداروں میں شامل ممالک کے خلاف اضافی درآمدی ڈیوٹی کا راستہ کھولا گیا ہے۔ گیس سے متعلق بعض شرائط میں ان ممالک کے لیے استثنیٰ بھی موجود ہے جو روس کی گیس برآمدات کا 15 فیصد سے کم درآمد کرتے ہوں اور روسی گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہے ہوں

بھارت کے لیے ممکنہ معاشی اثرات

بھارت کے لیے اس قانون کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ ملک روس سے بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اگر واشنگٹن قانون میں دیے گئے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے بھارت پر اضافی ٹیرف عائد کرتا ہے تو اس کے اثرات بھارت کی امریکہ کو برآمدات، دوطرفہ تجارتی تعلقات اور روس سے توانائی کی درآمدات پر پڑ سکتے ہیں۔

قانون سازی کا پس منظر

H.R. 5334 کو امریکی سینیٹ نے اگست میں 86-11 ووٹ سے منظور کیا تھا، جبکہ ایوانِ نمائندگان نے 16 ستمبر کو 262-159 ووٹ سے سینیٹ کی ترامیم کے ساتھ اسے منظور کیا۔ صدر ٹرمپ نے 18 ستمبر کو اس پر دستخط کیے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس قانون کا مقصد روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے حوالے سے روس کو مذاکراتی حل کی طرف لانے کے لیے امریکی حکومت کے پاس مزید قانونی اختیارات فراہم کرنا ہے۔ انتظامیہ نے ایران کے خلاف پابندیوں کو بھی اپنی قومی سلامتی کی پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔

برکس میں مودی، پوتن اور پزشکیان مقامی کرنسیوں، آزاد تجارت اور محفوظ تجارتی راستوں پر زور

رپورٹ: سماجی خبریں
ناشر سماجی خبریں

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے