حیدرآباد، 24 اگست: تہواروں کے موسم سے قبل حیدرآباد کے عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگا ہے۔
شہر میں چینی کی خوردہ قیمت میں تقریباً 78 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد چینی کی قیمت 45 روپے سے بڑھ کر تقریباً 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
اس اضافے سے گھریلو بجٹ کے ساتھ ساتھ مٹھائی کی دکانوں، بیکریوں اور کیٹرنگ کاروبار پر بھی اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
چینی کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں تہواروں کا سیزن شروع ہونے والا ہے۔
اس دوران گھروں میں مٹھائیاں اور مختلف پکوان تیار کرنے کے لیے چینی کی طلب عام دنوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے۔
نتیجتاً قیمتوں میں مزید دباؤ آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پانچ کلو چینی کی قیمت میں بھی بڑا فرق
قیمتوں میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو پانچ کلو چینی پہلے تقریباً 225 روپے میں مل جاتی تھی، اب اسی مقدار کے لیے تقریباً 400 روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
اس طرح عام صارف کے ماہانہ راشن کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
مہنگائی کا دباؤ برقرار
چینی کی قیمتوں میں اضافہ تلنگانہ میں مجموعی مہنگائی کے بڑھتے دباؤ کے درمیان ہوا ہے۔
جولائی 2026 میں ریاست کی خوردہ مہنگائی کی شرح 6.32 فیصد رہی، جو مسلسل ساتویں ماہ ملک کی ریاستوں میں سب سے زیادہ بتائی گئی۔
اسی مدت میں قومی سطح پر خوردہ مہنگائی 4.45 فیصد رہی۔ تلنگانہ میں دیہی مہنگائی 6.86 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 5.92 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق ریاست میں مہنگائی کا دباؤ صرف ایک یا دو اشیائے ضروریہ تک محدود نہیں رہا بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ، رہائش، صحت اور دیگر خدمات کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مٹھائی اور بیکری کاروبار بھی متاثر
چینی کی قیمت بڑھنے سے مٹھائی کی دکانوں، بیکریوں اور کیٹرنگ کاروبار کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
کاروباری حلقوں کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویش کا باعث ہے کیونکہ تہواروں کے دوران طلب میں اضافے کے باوجود خام مال کی قیمت بڑھنے سے منافع کا مارجن متاثر ہو سکتا ہے۔
ملک بھر میں چینی کی قیمتوں پر دباؤ
حیدرآباد میں قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر منڈیوں میں بھی چینی کی قیمتیں بلند ہوئی ہیں۔
حالیہ دنوں میں مرکزی حکومت نے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بلک صارفین کے ذخیرے پر پابندیاں سخت کی ہیں۔
حکومت کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جبکہ پیداوار اور رسد سے متعلق صورتحال بھی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔
حکومت چینی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے محدود ڈیوٹی فری درآمدات سمیت مختلف اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔

