منگل. ستمبر 1st, 2026

سبھاش چندرا کا مکیش امبانی کو انتباہ، کہا: ’’میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں، آپ کے پاس بہت کچھ ہے‘‘

Oplus_16908288

نئی دہلی، 30 اگست (ایجنسی):ایسل گروپ کے چیئرمین اور زی گروپ کے بانی سبھاش چندرا نے ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریلائنس سے وابستہ میڈیا ادارے ان کے خلاف ’’غلط پروپیگنڈا‘‘ کر رہے ہیں۔ چندرا کے بیان نے ملک کے دو بڑے کاروباری گروپس کے درمیان پرانے تنازع کو ایک مرتبہ پھر مرکزِ توجہ بنا دیا ہے۔

سبھاش چندرا نے ایک ویڈیو پیغام میں براہِ راست مکیش امبانی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ کسی بڑے کارپوریٹ گھرانے کے بارے میں کھل کر بات کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ TV18 گروپ، جس میں CNBC بھی شامل ہے، نے ان کی مالی مشکلات اور قرض سے متعلق ایسی خبریں نشر کیں جنہیں وہ غلط قرار دیتے ہیں۔

₹22 ہزار کروڑ کے قرض کے بدلے 6.5 کروڈ کی ادائیگی کا معاملہ

یہ تنازع سبھاش چندرا کی ذاتی ضمانتی ذمہ داریوں اور ان سے وابستہ کمپنیوں کے تقریباً 22,000 کروڑ روپے کے قرض کی قرارداد سے متعلق رپورٹنگ کے بعد شدت اختیار کر گیا۔ رپورٹس کے مطابق نیشنل کمپنی لاء ٹریبونل (NCLT) کے منظور کردہ قرض حل منصوبے میں ان کے خلاف تسلیم شدہ دعووں میں بڑی کمی واقع ہوئی۔

چندرا نے میڈیا رپورٹس میں اس معاملے کی پیش کش پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ تقریباً ₹22,000 کروڑ کا قرض محض ₹6.5 کروڑ میں ختم ہوگیا۔ ان کے مطابق یہ پیش کش حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتی۔

’’میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں‘‘

سبھاش چندرا نے مکیش امبانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے خلاف مبینہ مہم جاری رہی تو وہ بھی جواب دینے پر مجبور ہوں گے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی بہت کچھ کھو چکے ہیں اور ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں، جبکہ مکیش امبانی کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔

چندرا کے الزامات صرف حالیہ میڈیا رپورٹنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے زی انٹرٹینمنٹ کے حوالے سے ماضی کے کاروباری تنازع کا بھی ذکر کیا۔

زی کو حاصل کرنے کی کوشش کا بھی الزام

سبھاش چندرا کے مطابق جب وہ اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے زی کو فروخت کرنے کے امکانات پر غور کر رہے تھے تو انہوں نے مکیش امبانی سے بھی بات کی تھی۔ چندرا کا دعویٰ ہے کہ اس دوران انہیں قرض اور اس پر سود کی ادائیگی سے متعلق مشورہ دیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعد میں ریلائنس نے زی انٹرٹینمنٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، جس میں انوسکو کا بھی کردار تھا۔ چندرا کے مطابق یہ پیشکش ان کے خاندان کے لیے فائدہ مند تھی، تاہم اقلیتی شیئر ہولڈرز کے مفادات کے پیش نظر اسے قبول نہیں کیا گیا۔

ریلائنس نے الزامات مسترد کردیئے

دوسری جانب ریلائنس نے سبھاش چندرا کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے میڈیا برانڈز کو کسی شخص کے خلاف استعمال نہیں کیا گیا۔ ریلائنس نے یہ بھی کہا کہ وہ سبھاش چندرا کو ایک کاروباری شخصیت اور صنعت کار کی حیثیت سے قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے لیے نیک خواہشات رکھتی ہے۔

اس طرح سبھاش چندرا اور مکیش امبانی کے درمیان تازہ تنازع نے ہندوستان کے کارپوریٹ اور میڈیا حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم، چندرا کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اور ریلائنس کے جواب کو الگ الگ دعووں اور مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ریلائنس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے