اتوار. اگست 30th, 2026

شدھی کرن چھوا چھوت کی ہی ایک شکل ہے۔ راہل گاندھی

Oplus_16908288

ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ملکارجن کھرگے کے خطاب کے بعد ‘شدھی کرن، کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ۔

نئی دہلی، 29 اگست: لوک سبھا میں قائد اپوزیشن اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی ریلی کے مقام پر مبینہ ’شدھی کرن‘ کی رسم پر بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ’شدھی کرن‘ کو چھوت چھات کی ایک شکل قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا۔

کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملکارجن کھرگے نے 8 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کیا تھا۔
اس موقع پر راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ریلی کے بعد مبینہ طور پر BJP اور RSS سے وابستہ افراد نے اسٹیج کی ’شدھی کرن‘ کی اور اسے پاک کرنے کی رسم انجام دی۔ اس واقعے پر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

راہل گاندھی نے 29 اگست کو نئی دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’شدھی کرن‘ دراصل چھوت چھات کا دوسرا نام ہے اور ایسی حرکت آئین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے کے ذریعے دلت برادری اور خاص طور پر ملکارجن کھرگے کی توہین کی گئی ہے۔

راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر اس عمل میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی ہدایت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو کئی دن گزرنے کے باوجود ابھی تک مناسب قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کا راجیہ میں بیان

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی اس معاملے کو راجیہ سبھا میں اٹھایا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے کبھی دلت ہونے کی بنیاد پر کسی سے رعایت یا مدد نہیں مانگی، تاہم مبینہ ’شدھی کرن‘ کے واقعے نے انہیں چھوت چھات اور توہین کا احساس دلایا۔ مرکزی وزیر جے پی نڈا نے اس وقت کہا تھا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ پشکرسنگھ دھامی کا بیان 

دوسری جانب اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے BJP کے براہ راست ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ تنظیموں نے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے خلاف احتجاج کیا تھا اور کانگریس اس معاملے کو ’’دلت زاویہ‘‘ دے رہی ہے۔

اس معاملے نے ایک بار پھر BJP اور کانگریس کے درمیان ذات پات، دلت حقوق، سماجی مساوات اور سیاسی نظریات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ راہل گاندھی نے اسے ملک میں دو مختلف نظریات کے درمیان جاری سیاسی و نظریاتی کشمکش کا حصہ قرار دیتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ 20 دن کے بعد بھی بی جے پی کی جانب سے ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ ایسے میں انہوں نے واضح کیا کہ کاروائی نہ ہونے کی صورت میں کانگریس پارٹی واجب اقدامات کرے گی۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے