نئی دہلی25 اگست(ایجنسی): مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک بار پھر غیر قانونی دراندازی کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کوئی ’’دھرم شالہ‘‘ نہیں ہے، بلکہ ملک میں رہنے کا حق صرف اس کے شہریوں کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی درانداز ملک کی سلامتی، معیشت اور آبادیاتی توازن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
امیت شاہ نے یہ بات انٹیلی جنس بیورو (IB) کی دو روزہ نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس میں مرکزی سلامتی ایجنسیوں اور مختلف ریاستوں کی پولیس فورسز کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک کو مختصر مدت میں دراندازی سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران زمینی سرحد سے متصل تمام ریاستوں کا دورہ کرنے کے بعد سرحدی سلامتی کے لیے چار نکاتی حکمت عملی پر مبنی ایک دستاویز ریاستوں کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔
امیت شاہ کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں ہندوستان کی داخلی سلامتی کی پالیسی کو عالمی عدم استحکام، توانائی اور وسائل سے متعلق خدشات، سپلائی چین میں رکاوٹوں، بڑھتی بنیاد پرستی اور سائبر سطح پر پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات جیسے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان کو ہر شعبے میں عالمی سطح پر آگے بڑھنا ہے تو داخلی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق ایک مضبوط داخلی سلامتی کا ڈھانچہ ’’وکست بھارت‘‘ کے ہدف کے حصول کے لیے بنیادی ضرورت ہے
دراندازی اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی
دو روزہ کانفرنس کے دوران سلامتی ایجنسیوں اور پولیس فورسز کے افسران نے دراندازی کی روک تھام، حقیقی وقت میں انٹیلی جنس شیئرنگ، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی اور ان کے مالی و لاجسٹک نیٹ ورکس کو ختم کرنے سمیت قومی سلامتی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
امیت شاہ نے ریاستی پولیس اور مرکزی ایجنسیوں سے آئندہ 15 سے 20 برسوں کے ممکنہ سیکیورٹی رجحانات کا جائزہ لینے اور مستقبل میں سامنے آنے والے خطرات کی پیشگی نشاندہی کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی مسئلے کے بڑا چیلنج بننے سے پہلے ہی اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے۔
منشیات کے خلاف ’تین ڈی‘ فارمولہ
وزیر داخلہ نے ریاستی پولیس فورسز کو نارکوٹکس کنٹرول ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029 کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے منشیات سے پاک ہندوستان کے مقصد کے لیے ’’تین ڈی‘‘ یعنی Detect، Disrupt اور Destroy کے اصول پر کام کرنے پر زور دیا۔
شاہ نے سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر شمال مشرق میں منشیات، نکسل ازم اور شورش جیسے مسائل کو ان کے ابتدائی مرحلے میں ہی سنجیدگی سے لیا جاتا تو ملک کو کئی دہائیوں تک ان کے نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے تین بڑے داخلی سلامتی کے ہاٹ اسپاٹس میں موجود چیلنجز کو بڑی حد تک ختم کیا جا چکا ہے، جس میں ریاستی پولیس، مرکزی ایجنسیوں اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کا اہم کردار رہا ہے۔
لوک سبھا دیئے گئے بیان کو دہرایا
امیت شاہ نے رواں سال 27 مارچ کو لوک سبھا میں امیگریشن اینڈ فارنرز بل 2025 پر بحث کا جواب دیتے ہوئے بھی ہندوستان کو ’’دھرم شالہ‘‘ قرار دینے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ قانونی طور پر ہندوستان آنے والے افراد جو ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، ان کا خیرمقدم ہے، تاہم غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے پر سپریم کورٹ میں بھی ’’دھرم شالہ‘‘ کا حوالہ سامنے آ چکا ہے۔ 19 مئی کو جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت سزا پانے والے سری لنکن شہری کی حراست کے معاملے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے ملک کی محدود وسائل اور سلامتی سے متعلق ذمہ داریوں کا حوالہ دیا تھا۔
امیت شاہ نے کانفرنس کے اختتام پر زور دیا کہ قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل، بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ اور مستقبل کے خطرات کی پیشگی نشاندہی انتہائی ضروری ہے۔

