نارائن پیٹ26 /اگست (سماجی خبریں): عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر نارائن پیٹ شہر میں مرکزی میلاد کمیٹی کے زیرِ اہتمام عظیم الشان جلوس نکالا گیا، جس میں شہر کے علاوہ اطراف کے مختلف علاقوں سے ہزاروں عاشقانِ رسول ﷺ نے شرکت کی۔
جلوس کا آغاز لعل مسجد کے میدان سے ہواجو شہر کی اہم شاہراہوں سے گزرتا ہوا درگاہ حضرت سید شاہ محمد تقی سبز پوش قادریؒ پہنچا، جہاں فاتحہ خوانی کی گئی۔ جلوس کی نگرانی سجادہ نشینِ بارگاہِ تقی باباؒ، سید شاہ غیاث الدین قادری نے کی۔
اس دوران نوجوانوں، بچوں اور بزرگوں نے نہایت احترام کے ساتھ اپنے ہاتھوں میں سبز پرچم تھامے نعت رسولﷺ پڑھتے ہوئے اپنے عقیدت و محبت اظہار کر رہے تھے۔ وہیں جلوس کے راستوں میں عاشقان رسول ﷺ نے جگہ جگہ پر پانی، میٹھائی، شربت اور مشروبات کی تقسیم کر رہے تھے۔
سیاسی و سماجی قائدین کی شرکت
مرکزی چوک پر مرکزی میلاد کمیٹی کی جانب سے خصوصی شامیانہ نصب کیا گیا تھا، جہاں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ضلع ایس پی ڈاکٹر وینیت، ایڈیشنل ایس پی ریاض الحق، ٹی پی سی سی ممبر ابھیجئے ریڈی، بلدیہ چیئرمین ستہ یادو ،سابق مارکٹ کمیٹی چیر پرسن بندی وینوگوپال، میلاد کمیٹی زمہ داران امیر الدین ایڈووکیٹ، عبد السلیم ایڈووکیٹ، محمد تقی چاند وارڈ کونسلر، سرفراز انصاری، عظیم مڑکی سمیت مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر ضلع ایس پی ڈاکٹر وینیت نے مسلمانوں کو عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے امن، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کے ماحول میں تہوار منانے کی اپیل کی۔ دیگر قائدین نے بھی شرکاء کو میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر مرکزی میلاد کمیٹی کی جانب سے مہمانوں کی تہنیت کی گئی۔

شرکاء سے اظہار تشکر
جلوس کے اختتام پر درگاہِ تقی باباؒ میں شرکاء کے لیے طعام کا بھی انتظام کیا گیا۔ اس موقع پر جانشینِ سجادہ، حافظ سید محمد تقی رابع قادری، مولانا فاروق بن مخاشن نظامی، میلاد کمیٹی کے صدر عبدالسلیم ایڈوکیٹ، امیرالدین ایڈوکیٹ، جامع مسجد کے صدر محمد رفیق چاند، محمد تقی مؤذن، محمود قریشی اور دیگر ذمہ داران و معززین موجود تھے۔
واضح رہے کہ ربیع الاول کے آغاز سے ہی نارائن پیٹ میں سیرت النبی ﷺ اور حیاتِ طیبہ کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مختلف مقامات پر میلاد کی محافل اور سیرت النبی ﷺ کے جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ میلاد النبی ﷺ کا یہ جلوس بھی عقیدت و احترام اور پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔

