جمعرات. اپریل 16th, 2026

نظام الدین کی نعش محبوب نگر لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی. رکن پارلیمنٹ ڈی کے ارونا

MP DK Aruna during her visit to meet Victim Nizamuddin Family Members

رکن اسمبلی محبوب نگر وئی سرینواس ریڈی کے ہمراہ رکن پارلیمنٹ ڈی کے ارونا کی افردا خاندان سے ملاقات و تعزیت پیش

محبوب نگر21ستمبر(سماجی خبریں):رکن پارلیمنٹ محبوب نگر محترمہ ڈی کے ارونا نے امریکی پولیس کی جانب سے گولی مار کر ہلاک کرنے کے واقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم نظام الدین کے والدین سے ملاقات کر کے تعزیت کی اور انہیں تیقن دیا کہ وہ نظام الدین کی نعش کو محبوب نگر لانے کی ہر ممکن کوششکی جائیگی.

اس موقع پر ان کے ہمراہ رکن اسمبلی محبوب نگر وائی سرینواس ریڈی و دیگر موجود تھے.

رکن پارلیمنٹ محترمہ ڈی کے ارونا نے اس موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ وہ مرحوم نظام الدین کی نعش کو محبوب نگر لانے کے سلسلہ میں امریکہ میں موجود انڈین ایمبیسی حکام سے رابطہ میں ہے.ساتھ ہی انہوں نے اس سلسلہ میں پہلے ہی وزارتِ خارجہ کے حکام سے بھی بات کی ہے۔

MP DK Aruna with MLA Y Sriniwas reddy

 محبوب نگر کی بی کے ریڈی کالونی میں مقیم نظام الدین کے اہل خانہ سے ہفتہ کے روز مقامی ایم ایل اے یینم سرینواس ریڈی کے ہمراہ ملاقات۔اگرچہ یہ واقعہ اسی ماہ کی 3 تاریخ کو پیش آیا تھا لیکن یہ خبر تاخیر سے منظر عام پر آئی۔

نظام الدین جو سابقہ 9 برسوں سے امریکہ میں مقیم تھے اور گوگل کمپنی میں ملازمت کر رہے تھے۔حال ہی میں روم میٹس کے درمیان جھگڑا ہوا، جنہیں روکنے کی کوشش کے دوران پولیس وہاں پہنچی اور نظام الدین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
اس موقع پر رکن پارلیمنٹ محترمہ ڈی کے ارونا کے بتایا کہ وہ نظام الدین کی میت کو واپس لانے پر ہونے والے اخراجات مرکزی حکومت برداشت کرے، اس سلسلے میں اعلیٰ حکام سے نمائندگی کی جائے گی۔

نظام الدین کی موت پر ان کے والدین سمیت ہم سب کو شدید شکوک و شبہات ہیں۔اس واقعہ پر تحقیقات کرانے کے لیے کونسلیٹ جنرل سے بھی گفتگو کی جائے گی۔

پولیس کو فائرنگ کر کے نظام الدین کو کیوں ہلاک کرنا پڑا؟ اس واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونا نہایت ضروری ہے۔

Related Post