منگل. ستمبر 1st, 2026

راہل گاندھی کا بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ’ووٹ چوری‘ کا الزام

مہاراشٹر میں 2.07 کروڑ ووٹروں کے نام ڈرافٹ لسٹ سے خارج کئے جانے پر راہل گاندھی نے اٹھائے سوال

نئی دہلی یکم ستمبر: (ایجنسی)کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہل گاندھی نے مہاراشٹر کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں تقریباً 2کروڑ و 7 لاکھ وٹروں کے نام شامل نہ کیے جانے کے معاملے پر بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور ’’ووٹ چوری کمیشن‘‘ اپنے طریقے تبدیل کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کا مقصد ایک ہی ہے کہ کسی بھی قیمت پر بی جے پی کو انتخابی کامیابی دلائی جائے اور ملک کے جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا جائے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری اپنے بیان میں مہاراشٹر، مغربی بنگال اور 2024 کے انتخابات میں ووٹر فہرستوں سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزام کو دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کے 2024 لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان اچانک 39 لاکھ نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا تھا۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس وقت بھی اسے ’’ووٹ چوری‘‘ قرار دیا تھا اور آج بھی اپنے اس الزام پر قائم ہیں۔

مغربی بنگال کے SIR کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ جن ناموں کو انتخابی فہرست سے خارج کیا گیا، ان میں سے 91 فیصد نام اپیل کے بعد دوبارہ شامل کرنے پڑے۔

ان کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ ہر 10 میں سے تقریباً 9 نام غلط طریقے سے خارج کیے گئے۔

مہاراشٹر میں 2 کروڑ 7 لاکھ ووٹروں کا معاملہ

راہل گاندھی نے مہاراشٹر کی موجودہ صورتِ حال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب ریاست میں2کروڑ 7 لاکھ ووٹروں کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا گیا ہے، جو تقریباً ہر پانچویں ووٹر کے برابر ہے۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں ووٹرز کی تعداد کا تقابلی حوالہ دیتے ہوئے سوال کیاکہ

لوک سبھا 2024: 9 کروڈ 29 لاکھ ووٹرس کی فہرست جاری کی گئی،اسمبلی 2024کے موقع پر 39لاکھ ووٹرس کے اضافہ کے ساتھ 9 کروڈ 70 ووٹرس کی فہرست جاری کی گئی اور اب ایس ائی آر 2026 : 7 کروڑ80 لاکھ ووٹرز کی فہرست گاری کی جا رہی ہے.

راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ’’ان میں سے صحیح فہرست کون سی تھی؟‘‘

تازہ انتخابی اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹر کی SIR سے قبل ووٹر فہرست میں97854049 ووٹرز تھے،جن میں سے77165562کو ڈرافٹ رول میں شامل کیا گیا، جبکہ 20688487ووٹرز اس مرحلے پر ڈرافٹ فہرست میں شامل نہیں کیے گئے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ2 کروڑ 7 لاکھ ووٹروںکی تعداد حتمی طور پر ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کے مترادف نہیں ہے، کیونکہ دعووں اور اعتراضات کے مرحلے کے دوران اہل ووٹر اپنے نام دوبارہ شامل کرا سکتے ہیں۔

’ووٹ چوری سے بنی حکومت کو عوام کی ضرورت نہیں

راہل گاندھی نے اپنے بیان کے آخر میں بی جے پی پر سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ووٹ چوری سے بنی حکومت کے لیے عوام ضروری نہیں ہیں۔‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نہ تو عوام کی بات سنتی ہے اور نہ ہی عوام کے حکم کو تسلیم کرتی ہے

مہاراشٹرا الیکشن کمیشن کی وضاحت

دوسری جانب انتخابی حکام کے مطابق SIR کا مقصد ووٹر فہرست کو اپ ڈیٹ کرنا اور غیر حاضر، مستقل طور پر منتقل ہوچکے، فوت شدہ، ڈپلیکیٹ یا دیگر زمروں میں آنے والے ناموں کی جانچ کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ڈرافٹ فہرست کے بعد اہل ووٹرز کو دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ SIR کے دوران ’’Uncollectable EF‘‘ میں شامل 2کروڈ ساتھ لاکھ کیسوں کا مطلب خود بخود ووٹر کا حتمی طور پر اخراج نہیں ہے؛ حتمی فہرست دعووں، اعتراضات اور تصدیق کے عمل کے بعد تیار کی جائے گی۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے