ممبئی: خودکشی، دختر کشی، نشہ آوری اور ماحولیاتی آلودگی جیسے سنگین سماجی مسائل پر قابو پانے کے لیے صرف قوانین اور انتظامی اقدامات کافی نہیں، بلکہ انسانی ضمیر، اخلاق، ایمان اور احساسِ جواب دہی کو بیدار کرنا بھی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار وحدتِ اسلامی ہند، ممبئی کے زیر اہتمام اسلام جم خانہ میں منعقدہ خصوصی سمپوزیم میں مقررین نے کیا۔
یہ سمپوزیم وحدتِ اسلامی ہند کی دس روزہ کل ہند مہم’’پیغامِ رحمتِ عالم ﷺ‘‘ کی اختتامی تقریب تھی، جس میں سینکڑوں افراد، بالخصوص مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے شرکت کی۔ مقررین نے چاروں مسائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیتے ہوئے ان کے اسباب اور ممکنہ حل پر اظہارِ خیال کیا۔
وحدتِ اسلامی ہند کے کل ہند امیرمحمد ضیاء الدین صدیقی نے کلیدی خطاب میں کہا کہ سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے قوانین اپنی جگہ ضروری ہیں، تاہم جب تک انسان کے اندر ضمیر اور احساسِ جواب دہی بیدار نہ ہو، قانون کا اثر محدود رہتا ہے۔ انہوں نے دختر کشی کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بعض خاندان آج بھی لڑکی کو بوجھ سمجھتے ہیں اور جنس کی بنیاد پر اسقاطِ حمل جیسے سنگین فیصلوں میں پورا خاندان شریک ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عورت کے احترام اور اس کی عزت و وقار کے لیے سیرتِ رسول ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ رحمت اور عورت کو عزت و وقار عطا کرنے والی معاشرت قائم فرمائی۔
سنیتا ارالیکر : میں خوددختر کشی کی ایک زندہ مثال
مہمانِ خصوصی سنیتا ارالیکر نے اپنی زندگی کے المناک تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود دختر کشی کی ایک زندہ مثال ہیں۔ ان کے مطابق بچپن میں ان کے والد نے انہیں زندہ دفن کردیا تھا، تاہم ان کے نانا نے انہیں بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد دختر کشی کے خلاف جدوجہد ان کی زندگی کا مشن بن گئی ہے۔
انہوں نے سونوگرافی کے غلط استعمال، جنس کی بنیاد پر اسقاطِ حمل اور بیٹی کو معاشی بوجھ سمجھنے والی ذہنیت کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے اپنے گھر میں یہ جرم نہیں ہورہا تب بھی معاشرے میں ہونے والی دختر کشی کے خلاف آواز اٹھانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ کونسلنگ، سماجی بیداری اور مسلسل جدوجہد کو ضروری قرار دیا۔
وحدتِ اسلامی ہند کے معتمدِ عمومی ڈاکٹر محمد انیس نے کہا کہ دنیا میں بڑھتے ہوئے انتشار اور مسائل کی ایک بڑی وجہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے دوری ہے۔ محض علم انسان کو صالح نہیں بناتا بلکہ علم کے ساتھ ایمان، اخلاق اور ہدایت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کے ساتھ انسانی باطن کی اصلاح پر بھی توجہ دینا ناگزیر ہے۔
مختلف مضامین پر مقریرین کے بیانات
ماحولیاتی آلودگی کے موضوع پرڈاکٹر الیاس خان نے کہا کہ آلودگی محض سائنسی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی معاملہ بھی ہے۔ زمین، پانی، ہوا اور قدرتی وسائل انسان کے لیے امانت ہیں، اس لیے ان کے استعمال میں ذمہ داری، اعتدال اور احتیاط ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مادہ پرستی، نفس پرستی اور منافع کی اندھی دوڑ ماحولیاتی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
خودکشی کے موضوع پرپروفیسر ابراہیم خلیل عابدی نے کہا کہ اسلام انسان کو مایوسی کے حوالے نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ انہوں نے انسانی جان کو اللہ کی عطا اور امانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آخرت کا تصور انسان کو زندگی کا مقصد، امید اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے۔
نشہ آوری کے موضوع پر ڈاکٹر علی اکبر گھبرانی نے کہا کہ 13 سے 19 سال کی عمر شخصیت سازی کا انتہائی حساس مرحلہ ہے۔ اس دوران نوجوان غلط صحبت، تجسس اور جذباتی دباؤ کے باعث نشے کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ والدین کے عملی کردار اور مثبت رول ماڈل سے ہوتی ہے۔
پروگرام کا آغاز یحییٰ امروز صدیقی کی تلاوتِ قرآن سے ہوا، جبکہ احمد ابراہیم خان نے جگن ناتھ آزاد کا تحریر کردہ سلام پیش کیا۔ اسلام جم خانہ کے چیئرمین ایڈووکیٹ یوسف ابراہانی نے مہمانِ خصوصی سنیتا ارالیکر کی گل پوشی کی۔
پروگرام کے دوران دختر کشی کے خلاف سنیتا ارالیکر کی جدوجہد پر مبنی ویڈیو بھی پیش کی گئی، جبکہ چاروں موضوعات سے متعلق اہم اعداد و شمار اسکرین پر دکھائے گئے۔ تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والے سمپوزیم کا اختتام دعا اور عشائیے پر ہوا۔
ماخذ:وھدت اسلامی پریس نوٹ
تحریر و تدوین: Samaji Khabren

