2026-10-08

جامعہ نظامیہ کی عظمت و حرمت کے تحفظ کے لئے متحدہ جدوجہد کا عزم

جامعہ نظامیہ کی عظمت و حرمت کے تحفظ کے لئے متحدہ جدوجہد کا عزم
جامعہ نظامیہ کی عظمت و حرمت کے تحفظ کے لئے متحدہ جدوجہد کا عزم

فرزندان و محبانِ جامعہ نظامیہ کا کل رآت ہنگامی مشاورتی اجلاس؛ منظم احتجاجی لائحۂ عمل مرتب کرنے پر زور

حیدرآباد _: 8 / اکتوبر ( پریس نوٹ- سماجی خبریں ) فرزندان و محبانِ جامعہ نظامیہ کی جانب سے مفسرِ قرآنِ حکیم حضرت مولانا محمد محی الدین قادری محمودی چشتی مولوی کامل و خازن انجمن طلباء قدیم جامعہ نظامیہ کی قیام گاہ کشن باغ میں ایک اہم ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ، جس کی صدارت عمدۃ الحکمت حضرت علامہ الحاج سید شاہ نعمت اللہ قادری بانی و مہتمم مدرسۂ عربیہ انوارالعلوم نے کی ۔

اجلاس کا آغاز مولانا محمد نور خان کامل نظامیہ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا ۔ بعد ازاں ممتاز ثناء خواں رسول ﷺ مولانا قاری محمد فرحت اللہ شریف صوفی قادری فارغ التحصیل جامعہ نظامیہ نے حضرت بے ہوش محبوب نگریؒ کا نعتیہ کلام پیش کیا جس پر شرکائے اجلاس نے والہانہ انداز میں داد و تحسین پیش کی ۔

اغراض و مقاصد

اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا الحاج حکیم سید خیرالدین صوفی قادری بانی و صدر آل انڈیا صوفی علماء کونسل نے کہا کہ جامعہ نظامیہ برصغیر کی ایک عظیم و قدیم ، معروف اور دینی و علمی درسگاہ ہے جس کی پہلی اسناد پر حضور اکرم خاتم النبیین شفیع المذنبین رحمۃ اللعٰلمین صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم نے دستخط خاص مزین فرمائے ہیں ، مزید یہ کہ علمی و روحانی تعلیمات اور خدمات کا سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے اور ان شاء اللہ عزوجل کل صبح قیامت تک جاری رہے گا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ دینی اداروں اور اکابرِ امت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے تحقیق ، دیانت ، حسنِ ظن اور شرعی و اخلاقی اصولوں کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے ۔

جامعہ نظامیہ کو بدنام کرنے کی ناکام کوششوں کے خلاف عملی اقدام

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ جامعہ نظامیہ کو غلط انداز میں بدنام کرنے یا اس کی علمی و دینی حیثیت کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش کا دندان شکن جواب علمی ، شرعی ، آئینی اور پُرامن جمہوری طریقہ سے دیا جائے گا ۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک منظم احتجاجی اجلاس منعقد کرکے جامعہ نظامیہ کے خلاف پیش کی جانے والی بے بنیاد باتوں اور غلط فہمیوں کی وضاحت کی جائے اور متعلقہ قانونی و دستوری ذرائع سے رجوع کیا جائے ۔

حضرت مولانا نے قرآنِ حکیم کی آیتِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا ﴾( سورۃ الحجرات: 6 )ترجمہ: اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو ۔

انہوں نے کہا کہ اس آیتِ کریمہ کی روشنی میں کسی بھی خبر ، الزام یا دعوے کو بغیر تحقیق آگے بڑھانا مناسب نہیں ۔ خصوصاً دینی اداروں اور اہلِ علم کے بارے میں گفتگو میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے ۔

معزز علامہ کی شرکت 

اجلاس میں عمدۃ الحکمت حضرت علامہ الحاج سید شاہ نعمت اللہ قادری ، حضرت مولانا الحاج خواجہ محمد عبدالرؤف نقشبندی مقیم سعودی عرب ، مفسرِ قرآن علامہ محمد محی الدین قادری محمودی ، اسد العلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر ضلع ، امیرِ امارتِ امتِ اسلامیہ حضرت مولانا قاضی الحاج محمد عبدالرزاق نقشبندی مجددی قادری مداری چشتی سہروردی، بانی و صدر آل انڈیا ایس ایس او، حضرت مولانا الحاج مفتی محمد شفیق احمد صاحب قبلہ قادری نقشبندی چشتی سہروردی جامع السلاسل ، مولانا حافظ الحاج قاضی سید شاہ مدثر احمد قادری نقشبندی چشتی سہروردی ملتانی ، جناب محمد عبدالکریم صدر الکریم و متولی مسجد اشرف کریم ، جناب سید ایوب پاشاہ قادری نبیرہ حضرت سید ہاشم دستگیر قادریؒ ، مولانا حافظ محمد عبدالغفار قادری اور دیگر علماء کرام و مشائخ عظام نے بھی شرکت کی ۔

جامعہ نظامیہ پر معترضین کے الزامات بے بنیاد و اسلامی اصولوں کے مخالف: شرکاء

شرکائے اجلاس نے اپنے مشترکہ و متحدہ و منظم خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے تحقیق ، عدل و انصاف ، حسنِ اخلاق اور ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کی تعلیم دی ہے ۔ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے: ﴿ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ﴾( سورۃ المائدہ: 8 )ترجمہ : کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو ؛ انصاف کرو ، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے ۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں بھی تحقیق اور ذمہ دارانہ گفتگو کی بڑی تاکید آئی ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :«كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»( صحیح مسلم ، مقدمہ )ترجمہ : آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرتا پھرے ۔

معترضین کے جوابات احسن طریقہ سے دینے پر اتفاق 

شرکائے اجلاس نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جامعہ نظامیہ جیسے قدیم علمی ادارے کے بارے میں اگر کوئی اعتراض ، الزام یا شکایت سامنے آتی ہے تو اسے جذباتی انداز کے بجائے مکالمہ ، تحقیق ، مستند شواہد ، علمی وضاحت اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ اختلافِ رائے کو تہذیب و شائستگی کے دائرے میں رکھتے ہوئے دینی اداروں کے وقار اور علمی خدمات کا احترام ملحوظ رکھا جانا چاہیئے ۔

اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعہ نظامیہ کی علمی ، دینی اور تعلیمی خدمات کو عوام تک صحیح معلومات کے ساتھ پہنچانے کے لئے علماء کرام ، مشائخ عظام ، فرزندان جامعہ نظامیہ اور محبانِ جامعہ باہمی مشاورت سے آئندہ کا لائحۂ عمل مرتب کریں گے تاکہ عامۃ المسلمین میں پیدا کی گئی اضطرابی کیفیات کا ممکنہ ازالہ ہوسکے ۔

آخر میں جامعہ نظامیہ ، اس کے اساتذہ ، طلباء ، فاضلین و کاملین اور تمام وابستگان کی علمی و دینی خدمات کے تسلسل کے لئے دعا کی گئی اور اجلاس نہایت سنجیدہ و پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا ۔

نارائن پیٹ:جلوس پرچم قادریہ کے ساتھ ہی حضرت سید شاہ محمد تقی سبز پوش قادریؒ کے سالانہ عرس شریف کا شاندار آغاز

جامعہ نظامیہ کی 510 ایکڑ 35 گنٹے اراضی ملت کا عظیم سرمایہ، بازیابی کے لئے وقف بورڈ کی جدوجہد جاری رکھنے کا مطالبہ

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے