2026-10-24

جامعہ نظامیہ کی 510 ایکڑ 35 گنٹے اراضی ملت کا عظیم سرمایہ، بازیابی کے لئے وقف بورڈ کی جدوجہد جاری رکھنے کا مطالبہ

صدرنشین وقف بورڈ سید عظمت اللہ حسینی سے اسد العلماء کی اہم ملاقات ، اراضی کے تحفظ و حصول کے لئے مؤثر اقدامات کیلئے نمائندگی

حیدرآباد – 8 / ستمبر ( پریس نوٹ ) بارگاہ نبویؐ کی 155 سالہ قدیم و عظیم السامی یونیورسٹی شُہرۂ آفاق دینی و علمی "درسگاہ جامعہ نظامیہ” کی منی کنڈہ جاگیر میں واقع 510 ایکڑ 35 گنٹے قیمتی اراضی کے تحفظ ، بازیابی اور جامعہ نظامیہ کے حق میں اس اراضی کے مؤثر استعمال کے مسئلہ پر سنجیدہ کوششیں تیز ہوگئی ہیں ۔ اسی سلسلہ میں آج شام ساڑھے چاربجے تلنگانہ وقف بورڈ کے صدرنشین جناب سید عظمت اللہ حسینی صاحب سے حج ہاؤز میں واقع صدرنشین وقف بورڈ کے دفتر میں ایک اہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی ، جس میں جامعہ نظامیہ کی تاریخی اراضی کے مسئلہ ، اس سے وابستہ قانونی و انتظامی امور اور اراضی کے تحفظ کے لئے جاری جدوجہد پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا ۔

اس موقع پر بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ، اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی، مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر ضلع و جنرل سیکریٹری بزم طلباء قدیم جامعہ نظامیہ محبوب نگر متحدہ ضلع اور حضرت علامہ صوفی سید شاہ محسن احمد قادری المعروف محسن بابا قادری چشتی صابری قلندری سجادہ نشین و متولی بارگاہِ قدیم قطب الاقطاب حضرت سید دادے شاہ پیر قادریؒ نارائن پیٹھ ضلع نے صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی سے تقریباً ایک گھنٹہ طویل ملاقات کی ۔

ملاقات کے دوران جامعہ نظامیہ کی تاریخی حیثیت ، اس کے علمی و دینی مقام اور اس سے وابستہ اوقافی املاک کے تحفظ کی اہمیت پر خصوصی گفتگو ہوئی ۔ شرکائے ملاقات نے اس بات پر زور دیا کہ جامعہ نظامیہ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایشیاء میں دینی ، علمی ، فقہی ، حدیثی اور عربی تعلیم کے فروغ کا ایک عظیم تاریخی و روحانی مرکز ہے ، جس نے کئی نسلوں تک علماء کرام ، فاضلین و کاملین ،مفسرین ، محدثین ، فقہاء اور اہلِ علم کی علمی و عملی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا اور کرہاہے ہے ۔ ایسے عظیم ادارے سے وابستہ اوقافی اراضی کا تحفظ پوری ملت اور علمی ورثے کے تحفظ کے مترادف ہے ۔

ملاقات میں بالخصوص منی کنڈہ جاگیر کی نواب بہادر یار جنگ کی جانب سے 510 ایکڑ 35 گنٹے اراضی 1948 عیسوی نواب غازی یار جنگ رحمہ اللہ نے اپنی نرینہ اولاد نہ ہونے کی بناء پر جامعہ نظامیہ کو اراضی طلباء و طالبات کے لئے سائینس یونیورسٹی ، طب یونیورسٹی ، عربی یونیورسٹی ، کے قیام لئے وقف کی تھی کے یکسوئ کے لئے صدرنشین وقف بورڈ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ جامعہ نظامیہ ملت اسلامیہ کی امانت ہے اس سے لاکھوں فارغین جامعہ منی کنڈہ جاگیر شیر لنگم پلی ضلع رنگا ریڈی کی اراضی کے لئے کافی فکر مند ہیں ۔

اس موقع پر کہا گیا کہ جامعہ نظامیہ سے متعلق اوقافی اراضی تاریخی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اور اس اراضی کے تحفظ کے لئے تمام متعلقہ سرکاری و قانونی سطحوں پر مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات ناگزیر ہیں ۔ شرکائے ملاقات نے صدرنشین وقف بورڈ سے خواہش کی کہ وہ اس اہم معاملہ کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھاتے ہوئے متعلقہ حکام اور حکومت کے ذمہ داران کے ساتھ مؤثر نمائندگی کریں تاکہ جامعہ نظامیہ کا مستحقہ اراضی کے مسئلہ کی یکسوئی ہوسکے ۔

اس موقع پر مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نے صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی کی جانب سے جامعہ نظامیہ کی اراضی کے مسئلہ پر کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوقافی املاک کا تحفظ ایک نہایت اہم دینی ، ملی اور قانونی ذمہ داری ہے ۔ جامعہ نظامیہ جیسی تاریخی درسگاہ کی اراضی نہ صرف ایک جائیداد ہے بلکہ اس سے ایک عظیم علمی و دینی تاریخ وابستہ ہے ۔ اس لئے اس اراضی کے تحفظ کے لئے ہر ممکن آئینی ، قانونی اور انتظامی راستہ اختیار کیا جانا چاہیئے ۔

انہوں نے کہا کہ وقف املاک دراصل اللہ تعالیٰ کی راہ میں مخصوص کردہ امانت ہیں اور ان کا تحفظ آنے والی نسلوں کے لئے ایک عظیم قومی و ملی ذمہ داری ہے ۔ جامعہ نظامیہ نے صدیوں سے علمِ دین کی خدمت ، علومِ عربیہ و اسلامیہ کی اشاعت اور ملت کی علمی رہنمائی میں جو کردار ادا کیا ہے ، اس کے پیش نظر اس سے متعلق اراضی کا تحفظ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ۔
حضرت علامہ صوفی سید شاہ محسن احمد قادری المعروف محسن بابا نے بھی جامعہ نظامیہ کی تاریخی و روحانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دینی اداروں اور اوقافی املاک کا تحفظ علماء ، مشائخ اور ملت کے تمام ذمہ دار طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وقف بورڈ کی موجودہ قیادت اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھاتے ہوئے جامعہ نظامیہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات اور حکومت تلنگانہ سے بھرپور نمائندگی بھی کرے گی ۔

ملاقات کے دوران صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی صاحب نے جامعہ نظامیہ کی اراضی کے مسئلہ پر اپنی سنجیدگی و متانت اور عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کی جانب سے اس معاملہ کو اہمیت کے ساتھ لیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عنقریب متعلقہ وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے جامعہ نظامیہ کی اراضی کے مسئلہ پر مؤثر نمائندگی کی جائے گی اور اراضی کے حصول و تحفظ کے لئے بھرپور و مؤثر نمائندگی کرتے ہوئے کامیاب جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

صدرنشین وقف بورڈ نے مزید واضح کیا کہ اوقافی املاک کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے ہر ممکن قانونی و انتظامی اقدامات کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کی تاریخی اہمیت اور اس سے وابستہ اراضی کے معاملہ کو متعلقہ حکام کے سامنے مضبوط انداز میں پیش کیا جائے گا تاکہ اس مسئلہ کا مناسب اور پائیدار حل تلاش کیا جاسکے ۔

ملاقات کے دوران اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ جامعہ نظامیہ کی اراضی سے متعلق تمام تاریخی ، قانونی اور سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر معاملہ کو آگے بڑھایا جائے اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے صدرنشین وقف بورڈ جناب حسینی نے کہاکہ اراضی کے حصول کے لئے مجلس انتظامی جامعہ نظامیہ کو بھی آگے آنا ناگزیر ہے ۔ اس سلسلہ میں حکومت کے ذمہ دار وزراء ، اعلیٰ عہدیداران اور متعلقہ محکموں سے مؤثر نمائندگی کو بھی اہم قرار دیا گیا ۔

شرکائے ملاقات نے صدرنشین وقف بورڈ کی جانب سے جامعہ نظامیہ کی اراضی کے مسئلہ پر کی جانے والی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملت کے تاریخی اور اوقافی اثاثوں کے تحفظ کے لئے ایسی سنجیدہ کوششوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومتِ تلنگانہ اور متعلقہ سرکاری ادارے بھی اس تاریخی مسئلہ کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے جامعہ نظامیہ کے مفادات اور اوقافی حقوق کے تحفظ کے لیے مثبت اور عملی اقدامات کریں گے۔

ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جامعہ نظامیہ کی 510 ایکڑ 35 گنٹے اراضی کے تحفظ اور اس کے حق کی بازیابی کے لیے قانونی، انتظامی اور حکومتی سطح پر جدوجہد کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جائے گا۔ صدرنشین وقف بورڈ کی جانب سے متعلقہ وزراء سے ملاقات اور مسئلہ کو اعلیٰ حکومتی سطح پر پیش کرنے کے تیقن کو اس سلسلہ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

علمی، دینی اور ملی حلقوں میں بھی اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جامعہ نظامیہ کی تاریخی اراضی کے مسئلہ کو جلد مناسب حکومتی و قانونی سطح پر حل کرتے ہوئے اس عظیم دینی درسگاہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور اس قیمتی اوقافی اثاثہ کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ رکھا جائے گا۔

Related Post