2026-10-24

خاتون صحافیوں پر پولیس تشدد کی صحافتی تنظیموں کی جانب سے سخت مذمت فوری کارروائی کا مطالبہ

نئی دہلی (رپورٹ- فرید صدیقی)پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمنز پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ نے ساکیت پولیس اسٹیشن کے عملے اور متعلقہ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کی جانب سے4پی ایم نیوز اینکر صحافی شاہین خان اور نفیسہ خان پر کیے گئے وحشیانہ تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

​تفصیلات کے مطابق، یہ دونوں خاتون صحافی ساکیت میں واقع میکس اسپتال کے ایک نئے شعبے کے افتتاح کی کوریج کر رہی تھیں، جس کی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا موجود تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، جائے وقوع پر ساکیت پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے پہلے دونوں صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کی، پھر زبردستی پولیس وین میں گھسیٹ کر تھانے لے گئے۔

خان نام جاننے کے بعد تشدد میں اضافہ کرنے کا الزام

​تھانے پہنچنے پر ایس ایچ او کی ہدایت پر دونوں خواتین کو ایک کمرے میں لے جایا گیا، جہاں خاتون اہلکاروں کے ساتھ مل کر ان پر شدید تشدد کیا گیا۔ مبینہ طور پر ان کی مذہبی شناخت جاننے کے بعد تشدد میں مزید شدت لائی گئی اور مذہبی بنیادوں پر گالیاں دی گئیں، ساتھ ہی ان پر جھوٹے مقدمات (FIR) درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیوز میں ان کے جسموں پر شدید چوٹوں اور نیل کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

​پریس کلب آف انڈیا اور دیگر دستخط کنندہ صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کمشنر مسٹر انوراگ کمار سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں پر تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف آزادانہ، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ اس کے علاوہ پریس کونسل آف انڈیا سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ صحافت کی آزادی کو دبانے کے اس سنگین واقعے پر ازخود نوٹس (Suo Moto Cognisance) لے کر ملوث پولیس افسران کے خلاف آزادانہ کارروائی عمل میں لائے۔

Related Post