کہا: مذہبی آزادی کسی کی مہربانی پر منحصر نہیں
حیدرآباد/سہارنپور: سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو صبح 5 بجے منہدم کیے جانے کے واقعہ پر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اسدالدین اویسی نے کہا کہ مسجد کو آج صبح 5 بجے منہدم کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مسلمانوں کے لیے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی ضمانت اب نافذ نہیں رہی؟
انہوں نے سوال کیا کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو مبینہ کمزور بنیادوں پر بار بار بلڈوزر کارروائی کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
اویسی نے دعویٰ کیا کہ مسجد کمیٹی نے مسجد کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے 1911 تک کے ریکارڈ پیش کیے تھے اور ان کے مطابق وہاں ایک صدی سے زائد عرصے سے مسلسل نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔
"Waqf by User کے تصور کے تحت وقف کا درجہ حاصل
انہوں نے قانونی نکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتِ حال "Waqf by User کے تصور کے تحت وقف کے طور پر تحفظ کی مستحق ہے۔قانون کے تحت حکومت کو غیرمعینہ مدت تک خاموش رہنے کے بعد اچانک کسی غیر منقولہ جائیداد پر اپنا حق یا قبضہ ظاہر کرنے کی کھلی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اویسی نے مزید کہا کہ اگر ریاست کے مؤقف کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو ایک صدی سے زیادہ عرصے تک کھلا، مسلسل اور عوامی قبضہ adverse possession کے قانونی اصول سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسجد پہلے سے موجود تھی اور کلکٹریٹ بعد میں قائم ہوا۔ ان کے مطابق مسجد کے وجود سے متعلق تاریخی ریکارڈ اس معاملے میں اہم قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔
اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے کہا کہ بعض لوگوں کو شاید مسجد کا وجود ہی ناگوار گزرتا ہے، لیکن یہ ان کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ کسی کو مسجد پسند نہیں تو وہ اس سے نظریں پھیر سکتا ہے، لیکن محض اس بنیاد پر مسجد کو بلڈوز نہیں کیا جاسکتا۔

اویسی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ "میری مذہبی آزادی آپ کی مہربانی پر منحصر نہیں ہے۔”سہارنپور کلکٹریٹ کی مسجد کا انہدام پہلے ہی سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مسجد کو سرکاری اراضی پر غیرمجاز تعمیر قرار دیے جانے کے بعد کارروائی کی گئی، جبکہ مسجد سے وابستہ فریق اور بعض سیاسی رہنماؤں نے اس فیصلے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

