منگل. ستمبر 1st, 2026

اوٹکور میں ایس آئی او کے زیر اہتمام جلسۂ سیرت النبی ﷺ، امیر فیصل ندوی کا خطاب

اوٹکور30/اگست(سماجی خبریں-پریس نوٹ): اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (SIO) اوٹکور کے زیر اہتمام مکہ مسجد میں ’’سیرتِ نبی ﷺ‘‘ کے عنوان سے اجتماعِ عام منعقد کیا گیا۔ اجتماع کی صدارت مکہ مسجد کے صدر محمد فاروق شاہ نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی و مقرر امیر فیصل ندوی نے خطاب کرتے ہوئے سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں انسان کی زندگی کے مقصد، قرآن کی تعلیم اور تزکیۂ نفس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی

امیر فیصل ندوی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر دور میں انبیاء، رسل اور پیغمبر بھیجے۔ عرب کے ایسے ماحول میں جہاں ظلم و زیادتی، جہالت اور گناہ عام تھے، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔

انہوں نے قرآنِ کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس، تعلیمِ کتاب اور تعلیمِ حکمت شامل ہیں۔تلاوتِ قرآن غفلت کے پردے چاک کرتی ہے

انہوں نے ’’یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِهِ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کی تلاوت کا مقصد محض ثواب حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان کو غفلت سے بیدار کرنا بھی ہے۔ جب انسان قرآن کی آیات پر غور و فکر کرتا ہے تو اسے کائنات کی نشانیوں اور اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا احساس ہوتا ہے، جس سے ایمان کو نئی توانائی ملتی ہے۔ قرآن انسان کے لیے روحانی سکون اور ذہنی اطمینان کا ذریعہ بھی ہے۔

تزکیۂ نفس کے بغیر ترقی نامکمل ہے

امیر فیصل ندوی نے ’’وَیُزَکِّیْهِمْ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اندرونی پاکیزگی کے بغیر بیرونی ترقی ادھوری ہے۔ موجودہ تعلیمی نظام انسان کی ظاہری شخصیت اور خود کو بہتر بنانے پر توجہ دیتا ہے، لیکن جب تک انسان کے دل سے حسد، لالچ، تکبر اور دیگر اخلاقی برائیوں کا خاتمہ نہیں ہوگا، معاشرے میں حقیقی امن قائم نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اخلاقی بحران کا حل صرف سخت قوانین نہیں بلکہ خوفِ خدا اور آخرت میں جواب دہی کا احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت نے عرب کے بدوی معاشرے کو اخلاق، کردار اور علم کے اعتبار سے دنیا کی قیادت کرنے والی قوم بنا دیا۔

قرآن زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ ہے

انہوں نے ’’وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کی تعلیم کا مطلب صرف اس کی تلاوت کرنا نہیں بلکہ اس کے احکامات، قوانین اور فلسفۂ حیات کو سمجھنا اور عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ قرآن کو صرف برکت اور ثواب حاصل کرنے کی کتاب تک محدود کردیا گیا ہے، جبکہ قرآن انسان کو زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ فراہم کرتا ہے۔ کاروباری، خاندانی اور انفرادی معاملات میں قرآن کی تعلیمات کو اپنائے بغیر حقیقی رہنمائی حاصل نہیں ہوسکتی۔

سنتِ رسول ﷺ قرآن کی عملی تشریح ہے

امیر فیصل ندوی نے تعلیمِ حکمت اور سنتِ رسول ﷺ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن نظریاتی رہنمائی فراہم کرتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اس رہنمائی کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ قرآن نے جن احکامات کو بیان کیا، رسول اللہ ﷺ نے اپنی مبارک زندگی میں ان پر عمل کرکے انسانیت کے سامنے بہترین عملی مثال قائم کی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمِ قرآن انسان کو علم عطا کرتی ہے، جبکہ سنتِ رسول ﷺ اس علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ سنت کے بغیر قرآن کے صحیح فہم اور اس پر مکمل عمل کا تصور نامکمل ہے۔

اجتماع میں جماعت اسلامی ہند نارائن پیٹ ضلع کے ناظم منصور علی، امیرِ مقامی جماعت اسلامی ہند اوٹکور محمد جاوید امرچنتہ، مکہ مسجد کے پیش امام محمد افتخار، مقامی صدر SIO محمد آصف سمیت دیگر ذمہ داران اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اجتماع کے اختتام پر شرکاء نے سیرتِ رسول ﷺ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے