محبوب نگر30 اگست( محمد فرید صدیقی):نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر وی۔ سرینواس گوڑ نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ملک کی اکثریتی آبادی والے طبقات کو سیاسی، تعلیمی اور روزگار کے شعبوں میں مناسب نمائندگی اور انصاف نہیں مل سکا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں پارٹیاں بی سی طبقات کے ووٹوں سے اقتدار میں آتی ہیں مگر ان کے حقوق کے معاملے پر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔
انہوں نے راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "جتنی آبادی، اتنا حق” کا نعرہ لگانے والے اب بی سی ریزرویشن پر عملی اقدامات نہیں کر رہے ہیں.
جبکہ بی جے پی مردم شماری میں پسماندہ طبقات کی گنتی سے گریز کر رہی ہے۔ ملک میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب اکثریتی طبقات کو ان کا جائز حق اور شراکت داری دی جائے۔
آبادی کے تناسب سے ریزروشن کا مطالبہ
انہوں نے مزید کہا کہ تمل ناڈو، پنجاب، کرناٹک اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں آبادی کی بنیاد پر دیے گئے ریزرویشن کو عدالتوں میں آئینی بنیاد نہ ہونے کے باعث رد کیا جا رہا ہے، کیونکہ سرکاری مردم شماری میں بی سی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
اس لیے فوری طور پر آئینی ترمیم کر کے مردم شماری میں بی سی گنتی کو شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت کو انتباہ دیا کہ اگر ایس سی اور ایس ٹی کی طرز پر تمام بی سی ذاتوں کی نمبرنگ کر کے شفاف فہرست تیار نہ کی گئی تو ملک بھر کے 80 کروڑ او بی سی عوام خاموش نہیں رہیں گے اور بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کریں گے۔
انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ تاریخ ساز قدم اٹھاتے ہوئے پارلیمان اور اسمبلیوں میں او بی سی کے لیے آبادی کے تناسب سے ریزرویشن لاگو کریں۔
اس پریس کانفرنس میں راجیہ سبھا کے رکن پی۔ ولسن، پروفیسر سورج منڈل، سابق آئی اے ایس و تلنگانہ انٹلیکچوئلز فورم کے کنوینر چرنجیوی، پروفیسر یوگیندر یادو، ڈاکٹر انل جئے ہند، پروفیسر رتن لال، بی سی پولیٹیکل فرنٹ کے صدر بالاگونی بال راجو گوڑ، آل انڈیا او بی سی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر کرن، درگیا گوڑ، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے راجیش دتہ اور دیگر رہنما شریک تھے۔

