کٹھمنڈو:26اگست(ایجنسی): نیپال میں نیپال-چین سرحد کے قریب آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سیلاب نے کئی علاقوں میں مکانات، سڑکیں، پل، گاڑیاں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ ریسکیو ٹیمیں ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 160 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں رسوا ضلع شامل ہے، جہاں چہارشمبہ کے دن دریائے بھوٹے کوشی اور دیگر دریاؤں میں اچانک پانی کی سطح بڑھنے سے شدید سیلاب آیا۔ سیلابی ریلے نے متعدد آبادیوں اور اہم انفراسٹرکچر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نیپالی حکام کے مطابق ریسوا میں 403 نیپالی اور غیر ملکی سیاح لاپتہ ہیں، جن میں 341 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ ان میں 133 ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔
ہندوستانیوں کی بڑی تعداد لاپتہ
اس سانحے میں ہندوستانی شہریوں کے متاثر ہونے نے تشویش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ لاپتہ ہندوستانیوں میں بڑی تعداد ان افراد کی بتائی جاتی ہے جو کیلاش مانسروور یاترا کے لیے اس علاقے میں موجود تھے۔ ہندوستانی حکام نیپال اور چین کے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور متاثرہ ہندوستانیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بھارت نے نیپال کے لیے امدادی سرگرمیاں بھی شروع کردی ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے 10 ٹن انسانی امداد اور ضروری ادویات بھیجی گئی ہیں، جبکہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں تعاون کے لیے متعلقہ ادارے مسلسل رابطے میں ہیں۔
تبت سے آنے والے سیلابی ریلے نے مچائی تباہی
ابتدائی اطلاعات میں زلزلے کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد کی رپورٹس میں برفانی تودے یا گلیشیئر کے انہدام کو تباہ کن سیلاب کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تبت کی جانب سے آنے والے مٹی، چٹانوں اور پانی کے بڑے ریلے نے بھوٹے کوشی دریا میں اچانک شدید طغیانی پیدا کردی۔
اس تباہی کے باعث سرحدی علاقوں میں سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے جبکہ متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے بھی متاثر ہوئے۔ ریسکیو کارروائیوں کو دشوار جغرافیائی حالات، تباہ شدہ سڑکوں اور مواصلاتی نظام میں خلل کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسکیو آپریشن جاری، مزید سیلاب کا خدشہ
نیپالی فوج، پولیس اور دیگر امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بعض مقامات پر ہیلی کاپٹروں کے اترنے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے۔ حکام نے متاثرہ دریاؤں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم تازہ سرکاری پیش گوئی کے مطابق رسوا اور نواکوٹ میں فوری طور پر ایک اور بڑے سیلاب کی قابلِ اعتماد اطلاع نہیں ہے۔
ادھر سیلاب کے ممکنہ اثرات نیپال سے نکل کر ہندوستان کے سرحدی علاقوں تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ بہار اور اتر پردیش کے بعض علاقوں میں دریاؤں کی سطح بڑھنے کے امکان کے پیش نظر حکام کو الرٹ رکھا گیا ہے۔
نیپال کی موجودہ صورتحال نے پورے خطے میں تشویش پیدا کردی ہے۔ امدادی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں، تاہم لاپتہ افراد کی بڑی تعداد اور کئی علاقوں تک محدود رسائی کے باعث ہلاکتوں اور نقصانات کی حتمی تعداد سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

