2026-10-24

ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے 51 رکنی قومی مانیٹیرنگ کمیٹی کا اعلان

مسلمانوں کے سیاسی، سماجی، دستوری حقوق کا تحفظ اولین ترجیح، ملک بھر میں شعور بیداری کا منصوبہ

نئی دہلی، یکم ستمبر 2026(پریس نوٹ): ہم یہاں کسی سے بھیک مانگنے نہیں آئے، بلکہ یہ بتانے آئے ہیں کہ اس ملک کے ہر شہری کے اپنے حقوق ہیں۔ ملک کے تنوع کے باوجود حقوق ہمیں برابر کرتے ہیں. ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر و سینئر کانگریس قائد جناب سلمان خورشیدنےنئی دہلی میں انڈین مسلم سیول رائٹس کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا. انہوں نے تمام طبقات سے اس کوشش میں شامل ہونے اور ملک کے وسیع تر مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی


اس موقع پر ان کے ہمراہ سماجی، مذہبی، قانونی، سیاسی اور سول سوسائٹی سے وابستہ نمایاں شخصیات جن میں قابل ذکرجناب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند، جانب مولانا عطاء الرحمٰن قاسمی، جناب محمد ادیب، ندیم خان، جسٹس اقبال احمد انصاری، مولانا محسن علی تقوی، فُضیل احمد ایوبی، سید قاسم رسول الیاس، اعظم بیگ،سیکریٹری IMCR، موجود تھے.
اس موقع پر مقریرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے آئینی، قانونی اور سیاسی حقوق سے متعلق مسائل کے حل کے لیے 51 رکنی نیشنل مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی میں سماجی، مذہبی، قانونی، سیاسی اور سول سوسائٹی سے وابستہ نمایاں شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ کمیٹی 24 جولائی 2026 کو منعقدہ قومی کنونشن برائے مسلم قائدین و دانشوران میں منظور کی گئی قرارداد کے تحت تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق، آئینی تحفظات، شہری آزادیوں، سیاسی نمائندگی اور دیگر متعلقہ امور پر آئینی، قانونی اور جمہوری طریقوں سے اقدامات کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقصد کے حصول کیلئے کمیٹی مختلف اداروں کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قانونی اور جمہوری راستے اختیار کرے گی۔

اتراکھنڈ سے سرگرمیوں کا آغاز

نیشنل مانیٹرنگ کمیٹی کے 24ویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے ان علاقوں کا دورہ کیا جائے گا جہاں بحران اور مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کا مقصد متاثرہ علاقوں کے لوگوں میں اعتماد پیدا کرنا اور مقامی ذمہ داران، سول سوسائٹی اور سماجی و مذہبی قیادت سے براہِ راست رابطہ قائم کرنا ہے۔
اس سلسلے میں پہلا دورہ اتراکھنڈ کا کیا گیا۔ وفد نے دہرادون میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ریاست بھر سے تعلق رکھنے والی مسلم سیاسی، سماجی اور مذہبی قیادت سے ملاقاتیں کیں ہیں۔ ملاقاتوں میں ریاست کی موجودہ صورتحال اور مختلف طبقات کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینئر کانگریس رہنما گردیپ سپال بھی ایک اجلاس میں موجود تھے۔

جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب امیر جماعت جماعت اسلامی ہند

امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی نے کمیٹی کی تشکیل کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک بھر کے مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی کمیٹی ہے، جس میں قائدین کے ساتھ نوجوانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی ملک کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کرے گی۔ ان کے مطابق کمیٹی کی سرگرمیاں صرف مسلم کمیونٹی تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔

جناب مولانا عطاء الرحمٰن قاسمی صاحب

جناب مولانا عطاء الرحمٰن قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ قافلہ ملت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضرورت کو صرف شہروں میں نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ قافلہ مشرق سے مغرب تک ملک کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر ان لوگوں کی مدد کرے جو خود کو حاشیے پر یا غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

جناب محمد ادیب صاحب

جناب محمد ادیب نے اس موقع پرواضح کیا کہ یہ تحریک کسی تنظیم یا ادارے کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت سے متعلق معاملات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی رہنمائی کو تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ اس کمیٹی کا دائرۂ کار سیاسی معاملات تک محدود ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کا مقصد کسی کی مخالفت نہیں بلکہ مختلف حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر اجتماعی طور پر کام کرنا ہے۔

جناب ندیم خان صاحب

جناب ندیم خان نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں انہدامی کارروائیوں، بے دخلی، نقل مکانی اور عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات سامنے آرہے ہیں، جن سے مسلمانوں کے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے آسام میں ہزاروں خاندانوں کی مبینہ بے دخلی اور ’پش بیک‘ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ گجرات کے کچھ علاقوں اور راجستھان میں درگاہوں اور مساجد سے متعلق پیش آنے والے واقعات کا بھی ذکر کرتےہوئے کہا کہ کمیٹی کی ٹیمیں قانونی مداخلت کے ساتھ زمینی سطح پر بھی کام کر رہی ہیں، متاثرہ افراد سے رابطہ کر رہی ہیں اور واقعات کی دستاویز سازی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کرنولہ مہاپنچایت، ایس آئی آر اور فارم 7 سے متعلق قانونی معاملات کا بھی حوالہ دیا۔

جناب جسٹس اقبال احمد انصاری صاحب

جناب جسٹس اقبال احمد انصاری نے آسام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہندو مسلم کشیدگی کے مقابلے میں زبان کا مسئلہ زیادہ نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے دخلی کی کارروائیاں بنیادی طور پر بنگالی مسلمانوں سے متعلق ہیں اور آسام اور بنگالی مسلمانوں کے درمیان ایک رکاوٹ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی دونوں فریقوں کے ساتھ غیر جانب دارانہ اور منصفانہ رویہ اختیار کرنے کی حمایت کرتی ہے۔

جناب مولانا محسن علی تقوی صاحب

جناب مولانا محسن علی تقوی نے کہا کہ ملک میں ناانصافی اور سیکولر ڈھانچے کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر اس کوشش کو کامیاب بنانا اجتماعی ذمہ داری ہے۔

جناب فُضیل احمد ایوبی صاحب

جناب فُضیل احمد ایوبی نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں، سیاسی نمائندوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور وکلا کو ایک پلیٹ فارم کے تحت مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جناب سید قاسم رسول الیاس صاحب

جناب سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنائے جانے کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر، یکساں سول کوڈ (UCC)، موب لنچنگ، مدارس اور ’وندے ماترم‘ سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا اور ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی برادریوں سے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔

51 رکنی قومی مانیٹرنگ کمیٹی

نیشنل مانیٹرنگ کمیٹی کے ممبران کے طور پر درج ذیل 51 ممبران کا اعلان کیا گیا:

جناب فاروق عبداللہ
جناب محمد ادیب
محترمہ محبوبہ مفتی
جناب سلمان خورشید
جناب نجیب جنگ (IAS)
جسٹس اقبال انصاری
جناب وجاہت حبیب اللہ
جناب علی اشرف فاطمی
مسز سیدہ حمید
ایم ایل خالد سیف اللہ رحمانی
جناب سید سعادت اللہ حسینی ۔
مولانا سجاد نعمانی
مسٹر ای ٹی بشیر
جناب محمد علی شبیر
جناب ظفر الاسلام خان
ایم ایل عبید اللہ خان اعظمی۔
جناب کلب جواد نقوی
پروفیسر سلیم انجینئر
جناب رضوان ارشد
ایم ایل محب اللہ ندوی
منصور خان صاحب
محترمہ اقرا حسن
جناب ضیاء الرحمن برق
جناب عمران مسعود
جناب آغا روح اللہ مہدی
جناب کنور دانش علی
جناب محمد سلیم
جناب ابو عاصم اعظمی۔
عارف مسعود صاحب
جناب عمران کھیڑا والا
جناب غیاث الدین شیخ
جناب محمد مقیم
ایم ایل سید اشرف کچھوچھوی
جناب ملک معتصم خان
پروفیسر محمد سلیمان
جناب خالد رشید
Adv. حذیفہ احمدی
مفتی عثمان رحمانی لدھیانوی
ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس
ایم ایل یاسین علی عثمانی
جناب عمر شفیق
راشد چوہدری صاحب
Adv. فضیل احمد ایوبی
فرمان نقوی صاحب
مسٹر محمد۔ خالد خان
ڈاکٹر اعظم بیگ
ایم ایل زاہد رضا رضوی
مسٹر جمعہ رائمہ
مسز عظمیٰ ناہید
پروفیسر محمد علی محمود آباد
جناب ندیم خان (APCR)
منتظمین نے رابطہ کاری، دستاویزات، قانونی مداخلت، رابطے اور کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے 10 سیکریٹریٹ کا بھی اعلان کیا۔

Related Post