پیر. اگست 24th, 2026

امریکہ دورے کی اجازت نہ ملنے پر ریونت ریڈی برہم، مرکز پر تلنگانہ سے امتیازی سلوک کا الزام

وزیر اعلیٰ تلنگانہ اے ریونت ریڈی پریس کانفرنس کے دوران

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے. ریونت ریڈی نے اپنے مجوزہ امریکہ دورے کی اجازت مسترد کیے جانے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کا دورہ کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ تلنگانہ میں سرمایہ کاری لانے، تعلیم اور کھیلوں کے شعبوں کو فروغ دینے اور ریاست کے ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے تھا۔

حیدرآباد میں ریاستی سیکریٹریٹ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ریونت ریڈی نے کہا کہ امریکہ دورے سے متعلق تمام تفصیلات مرکزی وزارتِ خارجہ کو فراہم کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ دورے میں کچھ بھی خفیہ نہیں تھا اور سرکاری دوروں کے دوران متعلقہ ممالک میں بھارتی سفارت خانے ہر سرگرمی کی نگرانی کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ "اگر سیاسی وجوہات کی بنیاد پر دورے کی اجازت مسترد کی گئی ہے تو یہ صرف تلنگانہ حکومت کی نہیں بلکہ ریاست کے تقریباً چار کروڑ عوام کی توہین ہے۔” انہوں نے مرکزی حکومت پر تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا رویہ ملک کے وفاقی نظام کی روح کے خلاف ہے۔

وائبرنٹ گجرات کیلئے منظوری تو رائزنگ تلنگانہ کیلئے اجازت کیو ں نہیں؟ 

ریونت ریڈی نے گجرات کے وزیراعلیٰ کے بیرونِ ملک دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر وائبرنٹ گجرات کے لیے گجرات کے وزیراعلیٰ کو امریکہ اور کینیڈا جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کو سرمایہ کاری لانے کے لیے امریکہ جانے سے کیوں روکا گیا؟

انہوں نے بتایا کہ امریکہ دورے کا ایک اہم مقصد دسمبر میں حیدرآباد میں ہونے والی انویسٹ تلنگانہ سمٹ کے لیے بڑی عالمی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور معروف تعلیمی اداروں کو مدعو کرنا تھا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ایسے اداروں کو کئی ماہ پہلے دعوت دینا ضروری ہوتا ہے، تاکہ انہیں سمٹ میں شرکت کے لیے مناسب وقت مل سکے۔

ریونت ریڈی نے اپنے حالیہ برطانیہ دورے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آکسفورڈ، کیمبرج، یونیورسٹی آف لندن اور لندن بزنس اسکول کے نمائندوں کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی۔ بعض اداروں نے حیدرآباد میں مختصر مدتی کورسز شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تلنگانہ کے طلبہ کو امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ حکومت بیرونِ ملک تعلیم کے لیے اسکالرشپ فراہم کررہی ہے، لیکن عالمی معیار کے اداروں کو تلنگانہ میں ہی لانے سے طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔

تلنگانہ کو تین ٹریلین معیشت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ رائزنگ 2047 کے تحت ریاست کا ہدف 2034 تک ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بننا ہے۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور کھیلوں کے شعبوں میں عالمی شراکت داری ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز کے فیصلے سے تلنگانہ کو ممکنہ سرمایہ کاری سے محروم ہونے کا خدشہ ہے، تاہم ریاست کی ترقی کا سفر نہیں رکے گا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ امریکہ دورے کی اجازت مسترد کیے جانے کا معاملہ آئندہ پارلیمانی اجلاس میں بھی اٹھایا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں نائب وزیراعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا، وزراء اتم کمار ریڈی، تملا ناگیشور راؤ، سیتکا، پونگولیٹی سرینواس ریڈی سمیت متعدد ارکانِ پارلیمنٹ، ایم ایل سیز اور ایم ایل ایز موجود تھے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے