مقامی کرنسی میں آزادانہ تجارت کو نئے عالمی نظام کیلئے ابتدائی پہل سےتعبیر کیا جا رہا ہے.
نئی دہلی، 14 ستمبر(سماجی خبریں): BRICS سربراہی اجلاس 2026 کے دوران ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عالمی تجارت اور معاشی نظام سے متعلق اہم خیالات پیش کیے
وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی تجارت کیلئے محفوظ سمندری راستوں اور آزادانہ نقل و حرکت کی اہمیت پر زور
برکس بزنس فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نےکہا کہ ہندوستان میں برکس کے انعقاد کیلئے جو مرکزی پہلو ٓاختیار کیا وہ یہ ہے کہ اپسی تعاون، حساسیت، ایجاد ہے ۔
انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ برکس ممالک دینا کی آبادی کا 50 فیصد، جی ڈی پی کا 40 فیصد اور 25 فیصد سے زیادہ تجارتی معاملات کا احاطہ کرتا ہے۔
انہوں نے اس موقع پرعالمی تجارت کیلئے محفوظ سمندری راستوں، بلا رکاوٹ سپلائی چین اور آزادانہ نقل و حرکت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد راستوں کا برقرار رہنا ضروری ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے عالمی معیشت میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اقتصادی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور نئے ترقیاتی مراکز ابھر رہے ہیں۔
ان کے مطابق برکس ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اس بدلتے ہوئے عالمی نظام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی برکس ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پیش نظر ایران پر ہونے والے حملوں اور پابندیوں کا تذکیرہ کرتے ہوئے BRICS کے پلیٹ فارم سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے کی بات ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران سمیت متعدد ممالک
امریکی پابندیوں اور ڈالر پر انحصار کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تینوں رہنماؤں کے بیانات مقامی کرنسیوں میں تجارت، عالمی سپلائی چین کی آزادی، محفوظ تجارتی راستوں اور امریکی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے متبادل معاشی نظام کی حمایت، واشنگٹن کی موجودہ تجارتی حکمت عملی کے لیے ایک واضح سیاسی و اقتصادی اشارہ تصورکیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں BRICS سربراہی کانفرنس میں رکن ممالک نے نئی دہلی اعلامیہ 2026 بھی متفقہ طور پر منظور کیا۔ سربراہی اجلاس میں عالمی امن، تجارت، توانائی، مغربی ایشیا کی صورتحال اور کثیر قطبی عالمی نظام سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
BRICS اجلاس کے دوران مودی، پوتن اور دیگر عالمی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں نے بھی عالمی توجہ حاصل کی، جبکہ ہندوستان نے BRICS کے پلیٹ فارم کو عالمی جنوب کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا۔

