سہارنپور 5 ستمبر(ایجنسی): نچلی عدالت کے فیصلہ کے بعد اس سے قبل کے ہائی کورٹ کا رخ کیا جائے بلا کسی مہلت کے مسجد کو شہید کرنا نا قابل معافی جرم ہے.
اس خیالات کا اظہار رکن پارلیمنٹ اقراء حسین نے اے این ائی سے بات کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر انہوں نے اترپردیش کی یوگی سرکار پر ہندو مسلم کی سیاست کرنے اور 2027 انتخابات کے پیش نظر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے اس کاروائی کو کرنے کا الزام لگایا.
اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ سہارنپور سے تعلق رکھنے والے تمام قائدین کو جان بوجھ مسجد کو دھانے کیلئے گھر میں نظر بند رکھتے ہوئے صبح کے اولین ساعتوں میں مسجد کو ڈھادیا گیا.
یہ عمل نہ ہی صرف نہات ہی شرمناک ہے بلکہ لوک تنتر(جمہوریت) کو قتل کرنے اور دستور کی کھلی مخالفت ہے.
انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ اگر سارے فیصلہ سرکار کے حکم پر ہونے لگے تو پھر عدالتوں کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے. عدالتوں کو تالہ لگادینا چاہئے.
سہارنپور کلکٹریت کی قیام سے پہلے مسجد وہان موجود تھی. مسجد کا وجود 1947 سے پہلے سے ہے جس کے تحت پلیسس آف ورشپ ایکٹ ک(Places of Worship Act)ے تحت آتا ہے.
اس کے علاوہ موجودہ وقف قانون کا وقف بائی یوزرس(Waqf By User) کا بھی قانون لاگو ہوتا ہے.

