محبوب نگر 5ستمبر(سماجی خبریں):محبوب نگر میں مختلف صحافتی تنظیموں، بشمول TUWJ، IJU اور TUWJF کی جانب سے نئی دہلی میں خواتین صحافیوں پر مبینہ پولیس حملے کے خلاف آج تلنگانہ چوراستہ پر احتجاج کیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ فیڈریشن ضلعی صدر احد صدیقی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 3 ستمبر 2026 کو صحافی شاہین خان اور نفیسہ خان نے جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، اور چیف منسٹر ریکھا گپتا کی جانب سے افتتاحی پروگرام کو کوریج کرنے کیلئے گئیں اور اس موقع پر انہوں نے دہلی چیف منسٹر سے سوالات کرنے کی کوشش کی تو دہلی کی ساکیت پولیس انہیں مبینہ ڈیٹین کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن لیکر گئی اور وہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا.
جمہوریت میں صحافت کو تیسرا ستون کہاگیا ہے. ایسے میں کسی بھی صحافی پر حملہ جمہوریت کے چوتھے ستون پر حملہ ہے
خاطی پولیس افسران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ
صحافی شاہین خان اور نفیسہ خان نے اس موقع پر دہلی کی ساکیت پولیس کےی جانب سے انہیں نہ ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کے نام میں خان جاننے کے بعد ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا. جسکی تمام صحافی برادری مزمت کرتی ہے اور خاطی پولیس افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتی ہے.
اس موقع پر انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معامل کی جانچ کروائیں اور کاظی پولیس افسران کو برخواست کریں
محبوب نگر میں احتجاج کے دوران صحافیوں نے دہلی پولیس کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے خواتین صحافیوں کے تحفظ اور صحافیوں کے حقوق کی ضمانت کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں TUWJF/IJU کے صدر ناگا راجو، سکریٹری ستیش ریڈی، وینکٹیش گوڑ، TUWJF کے صدر احد صدیقی سمیت متعدد صحافیوں احتجاج میں وینکٹیش گوڑ، اشوک کمار، عبدالمجیب، ملا شاہ الدین، محمد جعفر، تقی حسین تقی، محمد مہراج، علیم صدیقی، رحیم، رفیع، اظہر خان، رگھو، سید اشفاق شاہ، انیل، نرنجن، محمد افضل، محمد ارجن اور مرزا وسیم بیگ سمیت دیگر صحافیوں نے شرکت کی۔

