༺﷽༻
اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ
محبتِ رسولﷺ کا قرآنی اعلان

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
ارشادِ ربّانی ہے:
اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ
نبی مؤمنوں کے لئے ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق دار ہیں۔ (الاحزاب: 6)
[sc name=”newstracking”][/sc]
یہ اعلان دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس صرف ایک معلم، رہنما یا مصلح کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ آپؐ کا مقام ایسا ہے کہ مومن اپنی جان سے بڑھ کر آپؐ کو عزیز رکھے۔ یہ نسبت محض اطاعت اور فرماں برداری کی حد تک محدود نہیں بلکہ اس میں محبت، وارفتگی، قربانی اور فنا فی الرسولؐ کی کیفیت شامل ہے۔ اسی حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:
"کہہ دو: اگر تمہارے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، خاندان کے لوگ، وہ مال جو تم کماتے ہو، وہ تجارت جس کے رک جانے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ سب چیزیں تمہیں اللّٰہ اور اس کے رسولؐ اور اللّٰہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللّٰہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔ اور اللّٰہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا” (التوبہ: ۲۴)۔
یہ آیت مومن کے قلبی معیار کو پرکھنے کا ترازو ہے۔ اس میں زندگی کے تمام بڑے تعلقات اور عزیز ترین رشتے ذکر کیے گئے باپ، بیٹے، بھائی، شریکِ حیات، خاندان؛ اور اس کے ساتھ وہ اشیاء جن سے انسان کو دنیا میں سب سے زیادہ انس ہوتا ہے مال و تجارت اور پسندیدہ مکانات۔ قرآن نے گویا اعلان کر دیا کہ اگر یہ سب چیزیں اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت پر غالب آ جائیں تو ایمان کا حقیقی ذائقہ نصیب نہیں ہو سکتا۔
اسی تناظر میں حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کی روایت کردہ حدیث مبارک میں نبی کریمﷺ نے فرمایا: "جس شخص میں یہ تین باتیں ہوں، اس نے ایمان کی حلاوت پا لی: (۱) اللّٰہ اور اس کا رسولﷺ اس کے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہوں۔ (۲) وہ کسی شخص سے محبت کرے تو صرف اللّٰہ کے لئے کرے۔ (۳) اور کفر کی طرف لوٹنے کو اسی طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔” (صحیح بخاری، کتاب الایمان)۔ یہاں ایمان کو ایک ذائقہ، ایک لذت اور ایک حلاوت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جیسے کوئی شیریں چیز دل و دماغ کو سرشار کر دیتی ہے، ویسے ہی ایمان کا نور اور محبتِ الٰہی و محبتِ رسولﷺ انسان کے دل کو سرور بخشتا ہے۔
ایمان کی اس حلاوت کا پہلا زینہ اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت ہے۔ اور یہ محبت محض رسمی یا زبانی دعویٰ نہیں بلکہ قلب و روح کی گہرائیوں سے نکلنے والی کیفیت ہے۔ یہ محبت ایسی ہونی چاہئے کہ انسان کا دل، فکر، خواہشات، ترجیحات اور فیصلے سب اس کے تابع ہو جائیں۔ گویا زندگی کا ہر رخ اسی محبت سے رنگین ہو جائے۔ درحقیقت، اللّٰہ تعالیٰ کی محبت مقدم اور اصل ہے، اور رسولﷺ کی محبت اسی محبت کا روشن عکس ہے۔ رسول اللّٰہﷺ کی ذات، اللّٰہ کی محبت تک پہنچنے کا سب سے عظیم وسیلہ اور عملی نمونہ ہے۔ آپﷺ سے محبت کا مطلب ہے کہ انسان آپؐ کے طریقوں کو اپنائے، آپؐ کے اخلاق سے محبت کرے، آپؐ کی سنّت پر عمل کرے اور آپؐ کی رضا کو اپنی دنیا و آخرت کی سب سے بڑی کامیابی جانے۔
محبت کی یہ کیفیت جب مومن کے دل میں راسخ ہو جاتی ہے تو پھر دنیا کے سب رشتے، مال و دولت، عزّت و جاہ، سب چیزیں ثانوی ہو جاتی ہیں۔ مومن کا معیارِ محبت یہ ہو جاتا ہے کہ وہ کسی سے محبت کرے تو صرف اللّٰہ کے لئے اور کسی سے نفرت کرے تو صرف اللّٰہ کے لئے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے حدیث میں "ایمان کی حلاوت” کہا گیا ہے۔ الغرض، قرآن اور حدیث دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایمان کی اصل روح اطاعت سے بڑھ کر محبت میں ہے۔ محبت وہ قوت ہے جو اطاعت کو زندہ اور پر شوق بناتی ہے۔ جس دل میں یہ محبت زندہ ہو، وہ نہ صرف اطاعت کرتا ہے بلکہ شوق اور کیف کے ساتھ اطاعت کرتا ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو انسان کو قربانی پر آمادہ کرتی ہے، خواہ قربانی اپنی خواہشات کی ہو، اپنے مال و متاع کی ہو یا اپنی جان کی۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں”۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان)۔ یہ ارشاد گویا ایمان کی بنیاد کو واضح کرتا ہے۔ ایمان کا مفہوم محض اقرار باللسان یا اطاعت بالجوارح تک محدود نہیں، بلکہ اس کی اصل روح یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کو دل کی گہرائیوں سے سب سے زیادہ محبوب رکھا جائے۔ والدین، اولاد، عزیز و اقارب اور دنیا کے سارے رشتے اپنی جگہ محترم و واجب التعظیم ہیں، مگر ان سب پر نبی اکرمﷺ کی محبت کو فوقیت دینا ہی ایمان کی اصل اور بنیاد ہے۔
یہ محبت کوئی اندھی وابستگی یا جذباتی وابال نہیں بلکہ شعوری اور عقلی محبت ہے۔ یہ محبت شعور کی بلندی سے جنم لیتی ہے، اس کے پیچھے معرفت ہے، ادراک ہے اور یہ یقین ہے کہ آپﷺ ہی اللّٰہ کے محبوب، برگزیدہ اور اس کے آخری رسول ہیں۔ اس شعوری محبت کا تقاضا ہے کہ مومن اپنی ترجیحات میں رسول اللّٰہﷺ کو مقدم رکھے۔ آپؐ کے حکم کے سامنے اپنی خواہش، اپنے خاندان، اپنی اولاد بلکہ اپنی جان کو بھی قربان کرنے کے لئے آمادہ ہو۔ یہی کیفیت انسان کو اس مقام پر پہنچاتی ہے کہ وہ کہے:
"فداک أبی وأمی یا رسول اللّٰہ” — "میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللّٰہ!”
اسی حقیقت کو قرآنِ مجید نے نہایت دل نشین انداز میں واضح فرمایا ہے:
"کہہ دیجیے: اگر تم اللّٰہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللّٰہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور اللّٰہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے”۔ (آلِ عمران: ۳۱)
یہ آیتِ مبارکہ گویا محبتِ الٰہی کے حصول کا واحد راستہ بیان کرتی ہے، اور وہ راستہ ہے اتباعِ محمدیﷺ۔ یعنی اللّٰہ کی محبت کا دعویٰ محض زبان سے نہیں بلکہ رسول اللّٰہﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے سے ثابت ہوتا ہے۔ اتباعِ نبویﷺ ہی وہ کسوٹی ہے جس پر محبتِ الٰہی کے دعوے کو پرکھا جا سکتا ہے۔ اسی لئے اکابر اولیاء اور صوفیائے کرام نے اس حقیقت کو نہایت لطیف پیرایے میں بیان کیا ہے۔ حضرت سہیل بن عبداللّٰہ تستریؒ فرماتے ہیں:
"اللّٰہ کی محبت کی علامت قرآن کی محبت ہے، قرآن کی محبت کی علامت نبیﷺ کی محبت ہے، نبیﷺ کی محبت کی علامت سنت کی محبت ہے، اور ان سب کی محبت کی علامت آخرت کی محبت ہے”۔
یہ قول گویا محبت کے ایک سلسلے کو بیان کرتا ہے:
اگر دل میں اللّٰہ کی محبت ہے تو وہ قرآن سے انسیت پیدا کرے گا۔
اگر قرآن سے محبت ہے تو لازمی طور پر نبی اکرمﷺ سے محبت کا جذبہ پیدا ہوگا، کیونکہ قرآن اور صاحبِ قرآن ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
اگر رسول اللّٰہﷺ سے محبت ہے تو اس کا ثبوت سنّتِ رسولﷺ کی پیروی ہے۔
اور جو شخص ان سب پر قائم ہو، وہ لازماً آخرت کی محبت اور فکر میں ڈوبا رہتا ہے، کیونکہ اس کا دل دنیا کی فانی لذتوں کے بجائے دائمی زندگی کی تلاش میں رہتا ہے۔
یہ حقیقت ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ ایمان کی اصل روح محبت ہے۔ محبت اللّٰہ سے، اس کے رسولﷺ سے، اور اس کی کتاب و سنّت سے۔ محبت وہ قوت ہے جو اطاعت کو آسان بناتی ہے، قربانی کو شیرین بنا دیتی ہے اور زندگی کو مقصد اور معنی عطاء کرتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جو دل محبتِ رسولﷺ سے خالی ہے وہ گویا ایمان کی حلاوت سے محروم ہے، اور جو دل اس محبت سے لبریز ہے وہ دنیا کی ہر آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے۔
اللّٰہ کے رسولﷺ کی محبت ایمان کا وہ عظیم رکن ہے جو بندے کے عقیدے کو جان بخشتا ہے۔ اگر یہ محبت دل میں موجود ہے تو ایمان باقی ہے، اور اگر یہ محبت بالکل نہ ہو تو ایمان بھی مفقود ہو جاتا ہے۔ گویا ایمان اور محبتِ رسولﷺ لازم و ملزوم ہیں؛ ایک کے بغیر دوسرا باقی نہیں رہ سکتا۔ اسی لئے نجات کا دروازہ اسی وقت کھلتا ہے جب بندے کے دل میں رسولِ اکرمﷺ کی محبت اپنے مال و دولت، اہل و عیال اور دنیا کی تمام چیزوں سے بڑھ کر ہو۔
یہ محبت دو درجات پر مشتمل ہے:
پہلا درجہ "وجوب” کا ہے، اور یہ ایمان کے قیام کے لئے ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر ایمان ناقص اور غیر معتبر رہتا ہے۔
دوسرا درجہ "استحباب” کا ہے، یعنی محبت کا وہ کمال جس سے ایمان کی لذت اور نورانیت حاصل ہوتی ہے۔ اس درجے کے بغیر اگرچہ ایمان نجات کے لئے کافی ہو سکتا ہے، مگر کامل ایمان کا شرف اور لذتِ ایمانی کا کیف نصیب نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ سچے اہلِ ایمان کے دلوں میں لاشعوری طور پر بھی رسولِ اکرمﷺ کی محبت رچی بسی ہوتی ہے۔ جب وہ کلمۂ طیبہ کے دوسرے جزو "محمدٌ رسول اللّٰہﷺ” کو ادا کرتے ہیں تو ان کے دل میں خود بخود ایک انس، ایک سرشاری اور ایک محبت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہ محبت ایسی ہے کہ چاہے انسان کے ظاہر پر دنیاوی غفلت یا گناہوں کی گرد چھا جائے، اس کے باطن میں یہ روشنی ایک پاکیزہ چراغ کی مانند مسلسل جلتی رہتی ہے۔ اور جب بھی اس چراغ پر صدق و اخلاص کی ہوا کا جھونکا پڑتا ہے، یہ شعلہ بن کر بھڑک اٹھتا ہے اور دل کو ایمان کی حرارت اور محبتِ مصطفیﷺ کی روشنی سے معمور کر دیتا ہے۔
یہ حقیقت صرف عقلی استدلال نہیں بلکہ وجدانی کیفیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ معرفت اور صاحبانِ دل نے ہمیشہ اس کو ایک روشن تجربے کے طور پر بیان کیا ہے۔ قدرت اللّٰہ شہاب نے اپنی مشہور خودنوشت شہاب نامہ میں اسی حقیقت کو نہایت خوبصورت اور پُر اثر انداز میں سمجھایا ہے کہ کس طرح ذاتِ محمدیﷺ سے وابستگی انسان کے اندرونی وجود کا حصّہ بن جاتی ہے۔ یہ ایسی چنگاری ہے جو کبھی گل نہیں ہوتی؛ وقتاً فوقتاً ایمان کی ہوا سے بھڑک اٹھتی ہے اور انسان کو پھر سے ایمان و محبت کی حرارت عطا کرتی ہے۔
محبتِ رسولﷺ محض ایک جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی نسبت ہے جو بندے کو اپنی ذات سے بلند کر کے حضورﷺ کی اطاعت، اتباع اور نصرت پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی محبت ہے جو قربانی کو آسان اور شریعت پر چلنے کو محبوب بنا دیتی ہے۔ یہی محبت ہے جو دل کو دنیاوی رشتوں سے آزاد کر کے اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی رضا کا اسیر بنا دیتی ہے۔ الغرض، محبتِ رسولﷺ ایمان کی روح اور نجات کی کنجی ہے۔ اس محبت کے بغیر ایمان کی عمارت کھوکھلی ہے، اور اس محبت کے ساتھ ایمان کامل، منور اور لذت و حلاوت سے سرشار ہو جاتا ہے۔
اے ربِّ کریم! ہمارے اندر وہی عشق و ولولہ پیدا فرما جو صحابۂ کرامؓ کی جگہِ خاص تھی وہی بے نیازی، وہی فداکاری، وہی سمع و طاعَت اور وہی نورانی غیوریت جو زمانۂ صحابہ میں نمودار تھی۔ یاد رکھئے کہ صحابۂ کرامؓ کی روایات فقط تاریخ کے مندرے نہیں بلکہ ایمان کے ایسے روشن آئنے ہیں جن میں ہماری روح اپنا عکس ڈھونڈتی ہے۔ حضرت معاذؓ، حضرت معوذؓ، امِّ عمارہؓ کی محبتِ صادق، اور عبداللّٰہ بن انسؓ جیسا اطاعت پسند جنون یہ وہ اوصاف ہیں جو دل کو پاکیزگی، زندگی کو معنی اور عمل کو مقام عطا کرتے ہیں۔
تاریخ کے اوراق میں ہمیں وہ مناظر بھی ملتے ہیں جن میں صحابہؓ نے ناموسِ رسالتﷺ کی عظمت پر ایسی حرارت کا اظہار کیا جس میں ادبِ شریعت اور زمانے کے تقاضوں کا توازن بھی نظر آتا ہے۔ صنعا کے واقعے کی مثال لیں، وہاں چند ناچنے والے گلوکاروں نے گستاخی کی جس پر اُس عہد کے ایک غیور صحابی نے سخت کارروائی کی مگر اسی صلح و شریعت کے دائرے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ضبطِ نفس اور شریعت کی حکمت کے ساتھ فیصلہ دیا کہ گستاخ ذاتِ مصطفیٰﷺ کے واسطے سزا سخت ہونی چاہیے مگر ہر حال میں عدل و توازن برقرار رہنا لازم ہے۔ یہ واقعہ ہمیں دو سبق دیتا ہے: ایک، صحابہؓ کا غیورانہ عشق؛ دوسرا، صدرِ اولیاء کا یہ درس کہ جذبات میں بھی عدل اور احکامِ شرعی کی ترجیح ضروری ہے۔
ہمیں بھی تو ہجر و وصالِ نبیﷺ کی اس تڑپ کا عاشق ہونا چاہئے جو زید بن دثنہؓ میں جلوہ گر تھی؛ جس جذبے نے اس راہ میں بے باکی، علم و عمل، اور سبقتِ خدمت پیدا کی۔ اور وہی عشقِ خالص چاہیے جو نور الدین زنگیؒ کو عامد کردے وہ عشق کہ شبِ خواب میں آقاِ دو جہاںﷺ خود ایک عظیم فریضے کی ترغیب دے دیں؛ مگر یاد رہے عشق جب تک علم، اخلاق اور شریعت سے مربوط نہ ہو وہ بذاتِ خود ناقص رہتا ہے۔
آج جب دنیا کے چند بدبخت عناصر قرآن و سُنّت کی توہین کرتے ہیں اور ہم میں سے بعض نوجوانوں میں اس ظلم و گستاخی کے خلاف شدید جذبات پیدا ہوتے ہیں تو یہ لازمی ہے کہ ہمارا ردعمل شرعی، عاقبت اندیش اور عدالتی دائرے میں ہو۔ بے شک محبتِ رسولﷺ اور غیوریتِ دینی ہمیں جوش دلاتی ہے، مگر اسلام نے عدل، ضبط، اور قانون کی اتنی ہی تاکید فرمائی ہے جتنی کہ محبتِ رسولﷺ کی۔ جس نے گستاخی کی ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانی ہے، احتجاج کرنا ہے، حق و انصاف کی راہ اپنانی ہے اور جب ممکن ہو تو عدالتی تقاضوں کا سہارا لینا ہے تاکہ ہماری تحریک بھی اخلاقی اور شریعت کے دائرے میں مقبول رہے۔
یہ بھی یاد رکھئے کہ بعض واقعات میں جوانوں نے ایسی کارروائیاں کیں جو ان کے ذاتی خلوص کی عکاس تھیں مگر انسانی شریعت کے لحاظ سے پیچیدہ نتائج بھی لائیں۔ مسلمانوں کا مفاد، عالمِ اسلام کا وقار اور رسولِ اکرمﷺ کی حرمَت کا دفاع اسی صورت میں درست طریقہ کہلائے گا جب اس میں حکمت، شوریٰ، اور شرعی اصول کی پاسداری موجود ہو۔ اسی طرح بزرگانِ دین، فقہا اور علما کا کام یہ ہے کہ جوانوں کے جوش کو علم، تربیت اور شرعی رہنمائی میں ڈھالا جائے تاکہ محبتِ رسولﷺ قوتِ عمل بھی بنے اور پھر عمل راستہِ حق سے نہ بھٹکے۔ پس نتیجہ یہ کہ: ہم صحابہؓ اور اولیائے کرامؒ کی محبّت و فداکاری سے الہام لیں؛ اپنے اندر سمع و طاعت، غیور دل، اور عشقِ نبیﷺ کی پاک کیفیت پیدا کریں؛ اس عشق کو علم، شریعت اور عدل کے تابع رکھیں؛ اور ہر قسم کی گستاخی کے خلاف احتجاج اور دفاعِ حرمت کو شرعی، عقلانی اور اسلوبِ امن میں انجام دیں۔
ایک نومسلم مفکر، جو کبھی یورپ کے ایک چرچ میں پادری رہا، اپنی کتاب میں نہایت بصیرت افروز انکشاف کرتا ہے کہ "مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی توہین محض وقتی ردعمل یا وقتی اشتعال انگیزی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی عالمی سازش ہے۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ مسلمان مغربی تہذیب میں کس حد تک رچ بس گئے ہیں، اور ان کی غیرت و ایمان کا لیول کہاں تک باقی ہے۔ یہ دراصل مسلمانوں کے صبر، غیرت اور ایمان کی جانچ کا ایک تجربہ ہوتا ہے”۔
یہ حقیقت اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ گستاخیٔ رسالتﷺ کا مسئلہ محض ایک شخص یا چند اداروں کی انفرادی حرکت نہیں، بلکہ ایک پورا منصوبہ اور ایک طویل المیعاد ایجنڈا ہے۔ اس لیے ہمیں ناموسِ رسالتﷺ کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ ان توہین آمیز حرکات کے پسِ پردہ اصل عوامل کیا ہیں؟ یہ سازشیں کن قوتوں کے اشارے پر انجام دی جاتی ہیں؟ کیا صرف حضور اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس کو نشانہ بنانا مقصود ہے یا اس کے پسِ پشت کوئی اور عظیم مقصد کارفرما ہے؟
اگر غور کیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ یہ حرکات صرف نبی کریمﷺ کی توہین نہیں بلکہ پوری اُمّتِ مسلمہ کی روح پر حملہ ہیں۔ کیونکہ نبی رحمتﷺ ہماری روحوں کے مرکز، ہمارے دلوں کی دھڑکن اور ہمارے ایمان کا محور ہیں۔ کسی کی زمین پر حملہ کرنا شاید اتنا گہرا زخم نہ دے جتنا اس کے ایمان پر، اس کی روحانی شناخت پر حملہ کرنا دیتا ہے۔ یہ جارحیت کی بدترین شکل ہے ایک ایسی جارحیت جو مادی سرحدوں کو نہیں بلکہ روحانی و ایمانی بنیادوں کو متزلزل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
اس پس منظر میں ہمیں یاد آتی ہے علّامہ مُحمّد اقباؔلؒ کی وہ شہرہ آفاق نظم "ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” جس میں وہ ابلیس کی زبانی مسلمانوں کے خلاف جاری سازشوں کی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں: ؎
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو
یہ اشعار محض شاعری نہیں بلکہ ایک گہری حقیقت کی آئینہ داری کرتے ہیں۔ اصل معرکہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے روحانی مرکز سے کاٹ دیا جائے۔ ان کے قلوب سے عشقِ رسولﷺ کی حرارت چھین لی جائے تاکہ وہ محض ایک جسمانی وجود بن کر رہ جائیں، جن کے پاس مادّی وسائل تو ہوں مگر ایمانی بصیرت نہ ہو۔ اگر اس منظرنامے کو سیموئل ہنٹنگٹن کے نظریہ "Clash of Civilizations” کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک فکری یا تہذیبی بحث نہیں رہتی، بلکہ ایک کھلی جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس جنگ کا مقابلہ اُمّت کے چند افراد ہی کر رہے ہیں، حالانکہ یہ معرکہ پوری اُمّت کے اجتماعی کردار کا متقاضی ہے۔
پوپ بینیڈکٹ کا لیکچر بھی اسی سازش کی کڑی تھا۔ ایک طرف وہ مغرب میں بڑھتی ہوئی Godlessness (بے دینی) اور Faithlessness (ایمان سے محرومی) کا ماتم کرتا ہے، لیکن اسی سانس میں اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کو نشانہ بناتا ہے۔ اس تضاد کا مقصد واضح ہے: مغرب کی مردہ مذہبی عصبیات کو اسلام کے مقابلے میں ابھارنا اور مسلمانوں کے خلاف ایک نئی ذہنی و تہذیبی جنگ چھیڑنا۔ یہ ساری صورت حال ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ناموسِ رسالتﷺ کا تحفّظ محض جذباتی نعروں سے ممکن نہیں۔ یہ ایک ہمہ جہتی جدوجہد ہے جس میں علم، فکر، تہذیب، سیاست اور عالمی فورمز سب شامل ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس جنگ کو صرف احتجاجی جلسوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ علمی و فکری میدان میں ایسی تحریریں، ایسی تحقیقات اور ایسی بین الاقوامی سفارت کاری کریں جو دنیا کے سامنے حق کو واضح کر دے اور باطل کے چہروں سے نقاب الٹ دے۔
آج جب باطل قوتیں عالمِ اسلام کی ترقی، اس کی زندہ تہذیب اور اس کے روحانی عروج کو دیکھ کر اندر ہی اندر خوف و حسد کا شکار ہیں، وہ اپنے اندر کے حقارت اور کم مائیگی کے احساس کو جبرانہ انداز میں چھپانے کے لئے نفرت، تضحیک اور گستاخی کی زبان اختیار کرتی ہیں۔ یہ عمل کسی محض فردی بے ادبی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم ذہنیت کی علامت ہے جو اقتدارِ اخلاقی و تہذیبی کے زوال کا اعتراف کرنے کے بجائے دوسروں کو مسخ کر کے اپنی فرضی عظمت ثابت کرنا چاہتی ہے۔
مسلمان ہونے کی نسبت سے ہمارا ایمان تب تک پختہ اور کامل نہیں ہوتا جب تک نبیِ اکرمﷺ کی ذات ہماری ذات، جان اور مال سے زیادہ عزیز و قیمتی نہ بن جائے۔ یہ محبت محض جذبات یا زبان کا اقرار نہیں؛ یہ ایک ایسا قلبی رشتہ ہے جو بندگی، اطاعت، اور قربانی کی سمت میں عمل کو امر کر دیتا ہے۔ ہم دنیاوی مفادات میں سمجھوتہ کر سکتے ہیں، مگر رسولِ اکرمﷺ کی شانِ اقدس پر کسی قسم کا مفاہمت یا سمجھوتہ ہمارے ایمان کی روح کے خلاف ہوگا نہ اس کا سوچنا درست ہے اور نہ انجام دینا۔
علّامہ مُحمّد اقباؔلؒ کی زبان میں جب یہ شعر آتا ہے: ؎
کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
تو اس میں صرف شہرتِ کلام نہیں بلکہ عشقِ مصطفٰےﷺ کی وہ وصف چھپی ہے جو انسان کو ہر رکاوٹ پار کر کے پیغامِ نبوت کے لئے قربان کر دیتی ہے۔ یہ شعر ہمارے عہدِ ایمان کا نعرہ ہے: جہاں عشقِ رسول ہو وہاں کوئی چیز اس پر فوقیت نہیں پا سکتی۔
اُمّتِ مسلمہ جو محمدِ مجتبیٰﷺ سے عشق کرتی ہے، وہ اپنے ایمان کی خاطر اپنی جان و مال، آبرو و شرف، حتیٰ کہ والدین اور اولاد کو بھی قربان کرنے کو تیار رہتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس نے تاریخِ اسلام میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اُمّت کو وہ وقار عطاءکیا ہے جو دنیا کی کسی طاقت کے بس کی بات نہیں۔ اس محبت کی بدولت اُمّتِ مسلمہ ایک جسدِ واحد کی مانند ہے؛ ہر کونے میں بسنے والا مومن اس مجموعی وجود کا حصّہ ہے اور اس کا دفاع سب کی مشترکہ ذمّہ داری ہے۔
اسی روح کے پیش نظر یہ کہنا بجا ہے کہ جہاں بھی کسی ملک میں اسلام یا رسولِ اکرمﷺ کی توہین کی جاتی ہے، وہاں کے مسلمان باہمی ہم آہنگی کے ساتھ عدالتی اور قانونی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے دفاع میں آواز اٹھائیں۔ جس طرح مختلف قوموں نے تاریخی جرائم یا نفرت انگیز جھوٹ کے خلاف مقدمات قائم کیے، بالکل ویسے ہی ہمیں بھی بین الاقوامی قانون، حقوقِ انسانی کے فورمز اور مقامی عدالتی نظام کا سہارا لے کر واضح موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ جہاں کہیں بھی بداندیشانہ تشہیر اور نفرت پھیلائی جائے، اس کے خلاف ذمّہ دارانہ اور مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
یہ بھی لازم ہے کہ ہمارا ردّعمل صرف عاطفی احتجاج تک محدود نہ رہے، بلکہ علمی، ثقافتی اور اخلاقی مزاحمت کی صورت اپنائے۔ تعلیم، تنقیدی مکالمہ، بین الثقافتی رابطے، اور مؤثر سفارتی کوششیں وہ ہتھیار ہیں جن سے ہم اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح میڈیا، ادب اور فن کے ذریعے ہم اپنی تہذیبی شناخت کو نہایت مہذب اور باوقار انداز میں پیش کریں تاکہ جھوٹ و تعصب کے مقابلے میں حق کی روشنی واضح طور پر چمکے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ناموسِ رسالتﷺ کا دفاع ہماری لازمی ذمّہ داری ہے، مگر یہ دفاع وہی مؤثر اور بامعنی ہوگا جو عقل، شریعت اور اخلاق کے دائرے میں ہو۔ محبتِ رسولﷺ بحیثیتِ ایمان کی جڑ ہے؛ اسے حفظ کرنے اور فروغ دینے کے لئے ہمیں یکجہتی، حکمت اور صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اسی میں ہماری عزّت، ہماری کامیابی اور اُمّتِ مسلمہ کا حقیقی وقار مضمر ہے۔
الحمدُ للّٰہ! واقعی ہماری رگوں میں انصار و صحابہؓ اور اولیائے کرامؒ کا وہی جوش موج زن ہے وہی غیرت، وہی عشق، وہی بے سدھ وفا اور جب تک یہ دنیا قائم رہے گی، انشاءاللّٰہ اُمّتِ مسلمہ کی دھڑکنوں میں رسولِ رحمتﷺ کے لئے محبت کی حرارت زندہ رہے گی۔
یہی وہ محبت ہے جو محض جذبات نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد ہے: عہدِ وفا، عہدِ دفاعِ شرافتِ نبوت اور عہدِ جان و مال کی قربانی۔ اسی عہد نے صدیوں میں اُمّت کو متحرک رکھا، اسی نے اسے ذلت و حقارت کے دور سے اٹھا کر وقار و عظمت کی راہوں پر گامزن کیا۔
آج جب عالمِ کفر کے بعض حلقے کھلے طور پر توہینِ رسالتﷺ کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، تو اُمّتِ مسلمہ کے پاس صرف غیظ و غیظ کا اظہار ہی نہیں بلکہ حکمتِ عملی، اجتماعی یکجہتی اور منظم مزاحمت کے ایسے طریقے بھی ہونے چاہئیں جو مؤثر، باوقار اور نتیجہ خیز ہوں۔ جس طرح ڈنمارک کے دور میں اُمّت نے باطل کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے اپنی غیرت کا عملی اظہار کیا، ویسے ہی ہمیں اپنی تہذیب، ثقافت اور اقتصادی طاقت کو بطریقِ موثر بروئے کار لانا چاہئے یہ بَیدنِ اعصاب نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سیاسی، سماجی اور اقتصادی حکمتِ عملی ہے۔
یہ یاد رہے کہ رسولِ اکرمﷺ کی محبت اور ان کی شانِ اقدس کا دفاع صرف جذبات کا معاملہ نہیں؛ یہ ایک بین الاقوامی اور تہذیبی پیغام بھی ہے: کہ ایک ارب پینتالیس کروڑ مسلمان جب متحد ہو کر اٹھ کھڑے ہوں تو وہ طوفان کی مانند دنیا کی منفی توانائیوں کو اندھا کردیتے ہیں۔ یہ وہ گھڑی ہے جب اُمّت کے دعوے عشقِ نبیﷺ، ایمان کی حرارت اور دفاعِ ناموسِ رسالت سچائی میں بدلتے ہیں۔
لیکن اہداف حاصل کرنے کے لئے ہمیں حکمت و شوریٰ اور شریعت کا راستہ اپنانا ہوگا:
احتجاج، سفارتی دباؤ، قانونی چارہ جوئی، اقتصادی بائیکاٹ اور ثقافتی محاذ پر مؤثر تشہیر یہ سب وہ اوزار ہیں جو ایک منظم اُمّت کے پاس ہونے چاہئیں۔
غضب میں آ کر غیرمعمولی یا غیرشرعی عمل امت کے مفاد میں نہیں ہوتا؛ یہی وہ بات ہے جو دشمن ہماری کمزوری سمجھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
ہمارے علماء اور رہنماؤں کا کام ہے کہ وہ عوام کے جوش کو سمجھائیں، اس کو بصیرت، شعور اور قانونیت کے ساتھ مربوط کریں۔
کیونکہ آخرکار یہی قوتِ ایمان اور عملی یکجہتی ہمیں فتح اور نصرت کی راہ دکھائے گی۔ وہ امت جو اپنے قائدِ اکرمﷺ کا دفاع کرنے کی قوت رکھتی ہے، وہی حقیقی آزادی، عزّت اور غلبہ پا سکتی ہے۔ جن قوموں نے اپنی معزز اقدار کے لئے اجتماعی قوت دکھائی، وہی تاریخ کے صفحات پر کامیاب و سرفراز نظر آئیں۔
اور جیسا کہ مولانا ماہر القادریؒ نے شعر میں کہا: ؎
اے نام محمد صلِ علیٰ
ماہرؔ کے لیے تو سب کچھ ہے
یہ حقیقتِ ایمان کا خلاصہ ہے نامِ محمدﷺ میں وہ طاقت، وہ حکمت، وہ شفا اور وہ فتح ہے جو فرد و جماعت دونوں کے لئے کافی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس نام کے گرد اپنی محبت کو مضبوط کریں، اپنے عمل کو منظم کریں، اور اپنے جوش کو علم، حکمت اور قانون کے دائرے میں رکھ کر دنیا کو یہ بتا دیں کہ محبتِ نبیﷺ صرف نعروں کی صورت نہیں بلکہ ایک منظم، بامقصد اور نتیجہ خیز تحریک ہے۔
اے اللّٰہ! ہمیں زید بن دثنہؓ کی محبت، نورالدین زنگیؒ کا جذبہ، اور علم و عمل میں شہیدوں جیسا عزم عطاء فرما۔ ہمیں وہ قوتِ ایمانی دے جو دلوں کو شرفِ عشقِ مصطفیﷺ سے منور کرے، مگر اسی کے ساتھ سمجھ، صبر اور شریعت کی روشنی بھی دے تاکہ ہمارا عشق عقل و انصاف کے راستے سے نہ ہٹے۔ اے ربِّ العالمین! ہماری نیتیں خالص کر دے، ہمارے جوش کو حکمت سے ملا دے، اور ہمیں وہ سفر عطاء فرما جو تجھے، تیرے رسولﷺ کو اور اُمّتِ مسلمہ کو عزّت و فلاح دے۔ اے اللّٰہ! ہمیں وہ سچا ایمان عطا فرما جس میں عشقِ نبیﷺ کی حرارت ہو، علم و فہم کی روشنی ہو، اور عمل میں حکمت و عدل کا امتزاج ہو۔ ہمیں اپنے جذبات کو شریعت اور عقل کے دائرے میں رکھ کر اپنے پیارے نبیﷺ کی شان کا مضبوط اور باوقار دفاع کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

