تلنگانہ کانگریس نے قائدین کو محتاط رہنے کی ہدایت
حیدرآباد 8 اگست : تلنگانہ کانگریس کی انچارج میناکشی نٹراجن نے پارٹی قائدین اور کارکنوں کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کے دوران انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف ہوئے تو اس کا براہِ راست اثر پارٹی کی انتخابی کارکردگی پر پڑ سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، میناکشی نٹراجن نے پارٹی قائدین کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران ووٹر فہرستوں کی جانچ اور ایس آئی آر کے عمل پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے تلنگانہ کے بعض حلقوں میں انتہائی معمولی ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی ہے، اس لیے انتخابی فہرست میں معمولی تبدیلی بھی سیاسی طور پر اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
میناکشی نٹراجن نے مبینہ طور پر پارٹی قائدین سے کہا، "ہم صرف 2 فیصد ووٹوں کے فرق سے جیتے ہیں، اس لیے ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
” انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کے دوران اگر لاکھوں ووٹ حذف ہوجاتے ہیں تو اس کے نتائج آئندہ انتخابات میں پارٹی کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
اہل ووٹروں کے نام حذف نہ ہونے دیں
کانگریس انچارج نے واضح کیا کہ پارٹی قائدین اور کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ووٹر فہرستوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام بلاوجہ یا غلط معلومات کی بنیاد پر فہرست سے خارج نہ ہو۔
انہوں نے پارٹی تنظیم کو ہدایت دی کہ بوتھ سطح سے لے کر حلقہ سطح تک کارکنوں کو متحرک کیا جائے اور ووٹر فہرستوں کی جانچ کے لیے باقاعدہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔
مقامی سطح پر کارکنوں کو متحرک کرنے کی ہدایت
میناکشی نٹراجن نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کو اپنے علاقوں میں ووٹروں سے رابطہ قائم کرنا چاہیے اور ایسے افراد کی نشاندہی کرنی چاہیے جن کے نام انتخابی فہرست سے غائب ہوں یا جن کے اندراج میں کسی قسم کی غلطی پائی جائے۔
انہوں نے پارٹی قائدین سے کہا کہ اگر کسی اہل ووٹر کا نام غلط طریقے سے حذف کیا گیا ہو تو معاملے کو فوری طور پر متعلقہ انتخابی حکام کے علم میں لایا جائے اور مقررہ طریقہ کار کے تحت دعویٰ یا اعتراض داخل کیا جائے۔
کانگریس قیادت نے پارٹی کے ضلعی اور مقامی یونٹوں سے کہا ہے کہ وہ ایس آئی آر کے پورے عمل کے دوران انتخابی فہرستوں کی نگرانی کریں۔
پارٹی کا موقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی درستگی جمہوری عمل کے لیے انتہائی اہم ہے اور کسی بھی اہل شہری کو محض انتظامی یا تکنیکی غلطی کی وجہ سے ووٹ دینے کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
میناکشی نٹراجن کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تلنگانہ کانگریس آئندہ انتخابی مقابلوں کے لیے تنظیمی سطح پر اپنی تیاریوں کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔
پارٹی قیادت نے کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایس آئی آر کے عمل کو محض انتخابی فہرست کی معمول کی نظرثانی نہ سمجھیں بلکہ اسے انتہائی سنجیدگی سے لیں۔
کانگریس کے مطابق، ہر اہل ووٹر کا نام انتخابی فہرست میں برقرار رہنا اور ووٹر فہرستوں میں کسی بھی غلطی کی بروقت نشاندہی کرنا پارٹی کارکنوں کی اہم ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

