منگل. اگست 25th, 2026

بے روزگاری کے مسئلے پر ملکارجن کھرگے کی مودی حکومت پر سخت تنقید، نوجوانوں کے مستقبل پر سوال

نئی دہلی، 24 اگست: کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ملک میں بڑھتی بے روزگاری کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث نوجوانوں کے لیے تعلیم سے روزگار تک کا راستہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں نیتی آیوگ اور پیریاڈک لیبر فورس سروے (PLFS) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 8.7 کروڑ نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ روزگار میں ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام سے وابستہ ہیں۔

ان کے مطابق اس عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 15.6 فیصد ہے، جبکہ نوجوان خواتین میں یہ شرح 19.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

کانگریس صدر نے حکومت سے سوال کیا کہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو مناسب ملازمتیں کیوں نہیں مل رہیں۔

کھرگے نے دعویٰ کیا کہ 20 سے 29 سال کی عمر کے بے روزگار افراد میں گریجویٹس کا حصہ 67 فیصد ہے، جبکہ 15 سے 25 سال کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 40 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اپنی جمع پونجی خرچ کر رہے ہیں، جبکہ طلبہ تعلیمی قرض لے کر ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی انہیں مناسب روزگار کے مواقع دستیاب نہیں ہوتے۔

 "گریجویشن کے بعد نوکریاں کہاں ہیں؟”

کھرگے نے حکومت کے مبینہ وعدے کا بھی حوالہ دیا جس میں ہر سال دو کروڑ ملازمتیں پیدا کرنے کی بات کی گئی تھی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وعدے کا کیا ہوا۔ ان کے مطابق اگر ہر سال دو کروڑ ملازمتیں پیدا ہوتیں تو 12 سال میں 24 کروڑ روزگار کے مواقع پیدا ہو چکے ہوتے۔

کانگریس صدر نے مزید الزام لگایا کہ ملک میں لاکھوں سرکاری عہدے خالی پڑے ہیں، جبکہ مستقل اور محفوظ روزگار کے بجائے کنٹریکٹ اور عارضی ملازمتوں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے کئی دیگر مسائل کو بھی ذمہ دار قرار دیا، جن میں تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات، سرکاری بھرتیوں میں تاخیر، مہارت اور صنعت کی ضروریات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق اور معیاری ملازمتوں کی کمی شامل ہیں۔

 "بھارت کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کو ڈیموگرافک ڈیزاسٹر میں کون بدل رہا ہے؟”

انہوں نے وزیر اعظم مودی کے اس دعوے پر بھی طنز کیا کہ ان کی حکومت وہ کام مکمل کرے گی جو سابقہ حکومتیں 70 برس میں نہیں کر سکیں۔

کھرگے نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت تعلیم، امتحانی نظام اور روزگار کے محاذ پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اپنی تنقید کے اختتام پر کھرگے نے حکومت کی تعلیمی پالیسیوں، امتحانی نظام اور روزگار کی صورتحال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوان مہنگی تعلیم، ناقابلِ اعتماد امتحانی نظام اور ایسی ڈگریوں کے درمیان پھنس گئے ہیں جن کے بعد مناسب روزگار کی ضمانت نظر نہیں آتی۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے