مہاراشٹر کے تِسگاؤں میں دل دہلا دینے والا واقعہ، بیٹے کو بچانے کی کوشش میں والد بھی کھائی میں گرے، ماں نے بھی جان دے دی
چھترپتی سمبھاجی نگر: مہاراشٹر کے تِسگاؤں علاقے میں آئی فون کی قسط کی ادائیگی کے معاملے پر پیدا ہونے والا خاندانی تنازع ایک انتہائی افسوسناک سانحے میں تبدیل ہوگیا، جہاں 18 سالہ کنال چندگودے اور اس کے والدین کی پہاڑی سے گرنے کے باعث موت ہوگئی۔
پولیس کے مطابق کنال نے آئی فون خریدا تھا، تاہم اس کی قسطیں ادا کرنے میں اسے دشواری پیش آ رہی تھی۔ وہ والدین سے رقم کا مطالبہ کر رہا تھا، لیکن مالی مشکلات کے باعث اس کے والد، جو ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے، مزید رقم فراہم کرنے سے قاصر تھے۔ اسی معاملے پر باپ اور بیٹے کے درمیان بحث ہوئی، جس کے بعد کنال غصے میں گھر سے نکل کر تِسگاؤں کے قریب واقع کھاوڈیا ڈونگر (Khavdya Dongar) پہاڑی پر پہنچ گیا۔
اطلاعات کے مطابق کنال صبح تقریباً 10 بجے پہاڑی کے خطرناک کنارے پر جا کھڑا ہوا۔ اس کے والدین بھی اسے واپس لانے کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ مقامی افراد، پولیس، فائر بریگیڈ اہلکار اور سابق سرپنچ سمیت کئی لوگوں نے تقریباً تین گھنٹے تک نوجوان کو سمجھانے اور محفوظ طریقے سے واپس لانے کی کوشش کی۔
مقامی افراد نے اسے مستقبل کے بارے میں سوچنے اور اپنی ماں کی خاطر واپس آنے کی اپیل کی۔ بعض افراد نے تو اسے آئی فون دلانے تک کی پیشکش کی، لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔
بیٹے کو بچانے کی کوشش میں والد بھی گرے
تقریباً دوپہر ایک بجے کنال کے والد مرلی دھر چندگودے بیٹے کے قریب پہنچے اور اسے کنارے سے ہٹانے کی کوشش کی۔ اسی دوران کنال کا توازن بگڑا اور وہ نیچے گر گیا، جبکہ اسے بچانے کی کوشش میں اس کے والد بھی پہاڑی سے نیچے جا گرے۔
دونوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔
اپنے شوہر اور بیٹے کو پہاڑی سے گرتے دیکھ کر کنال کی والدہ سنگیتا چندگودے بھی شدید صدمے میں آگئیں اور کچھ ہی دیر بعد پہاڑی سے نیچے گر گئیں۔ پولیس کے مطابق تینوں افراد کی موت چند منٹ کے اندر واقع ہوگئی۔
ریسکیو ٹیموں نے تینوں کی لاشیں برآمد کرکے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیں۔ پولیس نے معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئی فون کی قسط کا تنازع فوری طور پر سامنے آنے والی وجہ ہے، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش کی جا رہی ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق پولیس نے ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی ہے کہ نوجوان کسی مخصوص ذہنی بیماری یا ڈپریشن میں مبتلا تھا۔ پولیس اور عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ریسکیو اہلکاروں نے حفاظتی جال لگانے کی کوشش کی تھی، لیکن کنال مسلسل پہاڑی کے کنارے اپنی جگہ تبدیل کرتا رہا، جس کی وجہ سے فوری ریسکیو مشکل ہوگیا۔
یہ واقعہ اس بات کی ایک انتہائی المناک مثال ہے کہ مالی دباؤ، جذباتی کیفیت اور خاندانی اختلافات بعض اوقات کس قدر خطرناک صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ ایک موبائل فون کی خواہش سے شروع ہونے والا تنازع بالآخر ایک پورے خاندان کے اجڑنے کا سبب بن گیا۔

