ایس ائی آر کوواپس لینے کا مطالبہ، انڈیا اتحاد کے 300 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ و راجیہ سبھا ارکان کا مارچ۔
نئی دہلی6 اکتوبر(سماجی خبریں):ایس آئی ار میں مبینہ بے قیدگیوں کو لیکر ملک بھر میں اپوزیشن جماعتوں میں ناراضگی کی لہر پائی جا رہی ہے۔ جس کو لیکر آج انڈیا اتحاد کی جانب سے مارچ پارلیمنٹ کے مکر دوار سے شروع ہوکر الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر نروچن سدن کی جانب بڑھا۔
اپوزیشن ارکان کا مطالبہ تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور SIR کے عمل سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیا جائے۔ تاہم، دہلی پولیس نے مارچ کو نیتی آیوگ کے قریب روک دیا، جس کے بعد کئی اپوزیشن ارکان سڑک پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔
اسی کے ساتھ ایس ائی ار کو واپس لینے اور ایس ائی آر کے تحت کی جانے والی تمام کاروائیوں کو معطل کرنے اور بیالٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ پیش کیا گیا۔
اپوزیشن کے 300 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ کی شرکت
اس مارچ میں ’انڈیا‘ اتحاد کے19 جماعتوں کے300سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ ہزاروں میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے شرکت کی۔
اس موقع پر اپوزیشن قائد راہل گاندھی، کانگریس پارٹی صدر ملکارجن کھرگے، سماج وادی پارتی صدر اکھلیش یادو، این سی پی قائد سپریہ سولے، ترنمول کانگریس قائد ابھیشیک بینرجی، شیو سینا ادھو ٹھاکرے قائد سنجے راؤت، مہوا مویترا، منوج جھا، پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینو گوپال، ڈیرک وبورائن، عمران مسعود و دیگر ارکان پارلیمنٹ موجود تھے
اس دوران اکھلیش یادو، ابھیشیک بنرجی، ڈیرک او برائن سمیت بعض اپوزیشن قائدین کو پولیس نے حراست میں بھی لیا۔
اس موقع پر مظاہرین نے وزیر اعظم نریند مودی پر مبینہ ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے ’ووٹ چور گددی چوڈ‘ کے نعرے لگائے۔
سخت حفاظتی انتظامات،پولیس نے مارچ روکا
مارچ کے پیش نظر نئی دہلی کے علاقے میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی تعیناتی کی گئی تھی۔ پارلیمنٹ، پارلیمنٹ اسٹریٹ، وجے چوک اور الیکشن کمیشن کی جانب جانے والے راستوں پر بیریکیڈز لگائے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے مارچ کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچنے سے روک دیا، جس کے بعد اپوزیشن ارکان نے وہیں احتجاج اور دھرنا شروع کردیا۔
لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی کا بیان
میڈیا سے بات کرتے ہوئے لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے 300 سے زائد پارلیمنٹ و راجیہ سبھا کے ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کماراور ان کے ساتھ مزید دو الیکشن کمشنر سے ملاقات کرنے آئے ہیں پر ہمیں ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔
اس موقع پر انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشنر اگر ملک کے نمائندوں سے نہیں ملیں گے اور انہیں اپنی بات رکھنے نہیں دیں گے تو ملک میں جمہوریت کیسے باقی رہ سکتی ہے۔
مودی حکومت پر مبینہ ووٹ چوری کا الزام
اس موقع پر مودی حکومت پر مبینہ ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، آر ایس ایس سربرہ موہن بھاگوت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ملک میں جمہوریت کے خاتمہ کیلئے کام کرنے کا الزام لگایا
ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ووٹ چوری سے بنی مودی سرکار کو ملک کے نوجوان زیادہ دنوں تک چلنے نہیں دینگے، ساتھ ہی انہوں نے تعقن دیا کہ آنے والے دنوں میں جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کیلئےان کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی۔
سماجوادی سربراہ اکھیلش یادو کابیان

الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار ادارہ ہے ، اور الیکشن کمیشن کو عوام کیلئے کام کرنا چھاہئے. اس موقع پر انہوں نے الیکش کمشنر گیانیش کمر پر بی جے پی کیلئے کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے استفسار کیا کہ قانون کے تحت فارم 7 کے استعمال کے ذریعہ ایک فرد 5 افراد کی شکایت کر سکتا ہے تو الیکش کمشنر کو یہ بتانا چھاہئے کہ نند لال نشاط اور دشرت کون ہیں جن کے نام پر فارم 7 کے ذریعہ 100 افراد کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے اور ایسے افراد کے خلاف کیا کاروائی کی گئی.
ایک ملک ایک الیکشن
ایک ملک ایک الیکشن پر سماجی وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی عوام کے سامنے آنے اور ان کے جواب دینے سے بچنا چھاہتی ہے.
انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ عوام سے بچنے اور ایک ہی بار میں ووٹ چوری کے ذریعہ پانچ سال تک حکومت کرنا چھاہتی ہے. انہوں نے اترپریش میں پی ڈی اے کی شرکار بنانے کا دعویٰ کیا.
سی ای سی گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ، کانگریس کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
ناشر : سماجی خبریں
نارائن پیٹ گورنمنٹ جونئیر کالج عمارت کو دوبارہ تعمیر کا مطالبہ

