ہفتہ. اپریل 18th, 2026

اسرائیل نے غزہ کی جانب جارہے گلوبل صمود فلو ٹِلا جہازوں کو روک کر کیا کارکنوں کو گرفتار

iconic image of Global Sumud Flotilla

2 اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ کی طرف جارہے گلوبل صمود فلو ٹِلا جہازوں کو روک کر کیا کارکنوں کو گرفتار کیا، اگرچہ یہ جہاز صرف علامتی انسانی امداد لے کر جا رہے تھے، فلوٹِلا کامشن اسرائیلی غذائی ناکہ بندی کو توڈنا اوربحری راستہ غزہ تک قائم کرنے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔

اسرائیلی فورسز نے کئی جہازوں پر چڑھائی کی اور کنٹرول حاصل کیا جوگلوبل صمودفلوٹِل کا حصہ تھے۔ یہ فلوٹِلا غزہ پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہی تھی اور عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی تھی۔

یہ فلوٹِلا مجموعی طور پر40سے زائد سویلین جہازوں اور تقریباً500کارکنوں پر مشتمل تھی۔

ان جہازوں کو چہارشمبہ کی رات روکے گئے، کارکنوں کو گرفتار کر کے اسرائیل منتقل کیا گیا۔

اسرائیلی بحری دستے نے فلوٹِلا کے جہازوں کو تقریباً 70نیوٹیکل میل (تقریباً 130 کلومیٹر) کی دوری پر روکا۔

الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کی ایک رپورٹ کے مطابق کم از کم13 جہازوں کو روکا گیا ہے۔

فلوٹِلا کے بقول،37 ممالک کے201 افراد جہازوں پر سوار تھے۔

اس وقت تقریباً 30جہاز اسرائیلی فوجی جہازوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور غزہ کی ساحلی پٹی سے تقریباً85 کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ جہازوں کے قریب ڈرونز اور غیر نمایاں کشتیوں نے تعاقب کیا۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی بحری جہازوں نے جہازوں کی مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچایا تاکہ کوئی انخطار سگنل نہ بھیجیں اور لائیو نشریات روکی جا سکے۔

Tracking Map of Global Sumud Flotilla

اسرائیل کا ردعمل

اسرائیل نے فلوٹِلا کو خبردار کیا کہ وہ محدود کردہ اور محصور سمندری علاقے کے قریب آ رہی ہے، اور امداد غزہ کو صرف منظور شدہ چینلز کے ذریعے بھیجی جائے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ گرفتار کارکنان یومِ کفّور (Yom Kippur) کی تعطیلات کے بعد جلا وطن کیے جائیں گے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ویڈیو جاری کی جس میں ایک خاتون بحری بیڑے کا نمائندہ خود کو پیش کرتی ہے اور کہتی ہے کہ چند جہاز روکے گئے ہیں اور مسافر اسرائیل کے بندرگاہ پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض فلوٹِلا کے منتظمین حماس سے منسلک ہیں، البتہ کارکنان نے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ماضی کی

بین الاقوامی ردعمل

ملیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے اسرائیل کی اس کارروائی کی “شدید ترین” الفاظ میں مذمت کی۔

آئرلینڈنے اسے پریشان کن قرار دیا اور یورپی ممالک کے ساتھ رابطے کیے۔

کولمبیانے اپنے اسرائیلی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا، اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے کو معطل کر دیا۔

وینزوئلانے اسے "جرمِ جنگ” قرار دیا اور اسرائیلی اقدام کو انسانی امداد کی روک ٹوک قرار دیا۔

ترکی نے اسے "دہشت گرد کارروائی” کہا اور افسوس کا اظہار کیا۔

Related Post