ہفتہ. اپریل 18th, 2026

༺﷽༻ن


مضمون نگار✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسانی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ ظلم و جبر کی بنیاد پر کوئی نظام ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: یہ دن ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ یہ اعلان گویا ایک اٹل قانون ہے کہ ظالم کی طاقت وقتی ہو سکتی ہے، مگر ہمیشہ نہیں۔ (آلِ عمران: 140)۔ فلسطین کے مظلوم عوام گزشتہ ایک صدی سے اسی آفاقی قانون کے گواہ ہیں۔ ان کی سرزمین پر ہر طرح کی یلغار اور قتل و غارت کا بازار گرم رہا، لیکن ان کے دلوں سے ایمان اور حریت کی شمع بجھائی نہ جا سکی۔

اسلام نے جنگ کے بجائے عدل و امن کو اصل مقصد قرار دیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا: خبردار! تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے آج کا دن اور یہ مہینہ حرام ہے۔ یہ پیغام صرف اہلِ ایمان کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھا۔ لیکن افسوس کہ آج فلسطین کی زمین پر یہی بنیادی اصول سب سے زیادہ پامال ہو رہا ہے۔

غزہ کے بچّے، عورتیں اور بوڑھے، روزانہ اس تلخ حقیقت کے ساتھ جی رہے ہیں کہ ان کا خون مباح سمجھا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں کوئی بھی امن منصوبہ صرف سیاسی تدبیر نہیں بلکہ ایک دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔ قرآن نے واضح فرمایا: اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ۔ (الأنفال: 61)۔ یہ حکم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ امن قائم کرنا محض سیاست دانوں کا ایجنڈا نہیں، بلکہ اُمّتِ مسلمہ کی دینی ذمّہ داری ہے۔

تاہم اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ امن کی بنیاد صرف انصاف پر قائم ہو سکتی ہے، ورنہ وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ قرآن میں ارشاد ہے: اور جب بات کرو تو عدل کے ساتھ کرو، خواہ وہ قریب ترین رشتہ دار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو (الأنعام: 152)۔ یہی اصول فلسطین کے مسئلے کی اصل کنجی ہے۔ اگر اسرائیلی قبضہ، بیت المقدّس کی بے حرمتی اور انسانی حقوق کی پامالی جاری رہے، تو کسی بھی جنگ بندی یا معاہدے کو پائیدار امن کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔

لہٰذا آج جب عالمی طاقتیں اور عرب دنیا کسی نئے منصوبے پر متفق ہونے کی کوشش کر رہی ہیں، تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اصل کامیابی صرف اس وقت ہوگی جب یہ کوششیں قرآن کے عدل اور نبی کریمﷺ کی سنّت کے امن کے اصولوں پر استوار ہوں۔ بصورتِ دیگر، یہ بھی ماضی کے ناکام معاہدوں کی طرح تاریخ کے اوراق میں دفن ہو جائے گا۔

گزشتہ روز امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عرب دنیا کے چند ممتاز رہنماؤں کے ساتھ ایک نشست منعقد کی، جسے خود ٹرمپ نے اپنی سفارتی زندگی کی "انتہائی اہم میٹنگ” قرار دیا۔ یہ ملاقات محض رسمی گفتگو نہ تھی بلکہ غزہ کی بربادی، انسانی المیے اور خطے کی بدلتی ہوئی سیاست پر ایک ایسے لائحۂ عمل کی تلاش تھی، جو مستقبل کے لئے فیصلہ کن ثابت ہو سکے۔

ٹرمپ نے اس موقع پر جو خاکہ پیش کیا، وہ بظاہر جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کے جذبات سے لبریز نظر آتا ہے:

● سب سے پہلے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام یرغمالیوں کو یکمشت رہا کیا جائے تاکہ فریقین کے درمیان اعتماد کی فضاء پیدا ہو۔ گویا یہ پہلا قدم خونریز دشمنی کی آگ بجھانے کی طرف ہو۔

● دوسرا نکتہ فوری اور دائمی جنگ بندی کا تھا۔ یہ ایک ایسا خواب ہے جو فلسطین کی سر زمین کئی دہائیوں سے دیکھ رہی ہے لیکن ہر بار اس کی تعبیر ریت کے ذرے کی مانند ہاتھ سے پھسل جاتی ہے۔

● تیسرا مرحلہ غزہ سے اسرائیل کی تدریجی پسپائی ہے۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھار لے تو یہ 1967ء کے بعد پہلی بار ہوگا کہ اسرائیلی فوجی ایک باضابطہ معاہدے کے تحت پیچھے ہٹیں۔

● ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ غزہ پر حماس کی حکومت باقی نہیں رہے گی، اور اس کے بجائے فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کے نظم و نسق کا اختیار دیا جائے۔

● مزید یہ کہ غزہ کی دوبارہ آبادکاری کے لئے عرب ممالک کو تعاون پر آمادہ کیا جائے گا تاکہ برباد مکانات، اجڑی بستیاں اور بے یار و مددگار عوام ایک نئی صبح دیکھ سکیں۔

مگر یہ یک طرفہ منصوبہ نہ تھا۔ عرب رہنماؤں نے بھی اپنی شرائط امریکہ کے سامنے رکھیں، اور ان شرائط میں فلسطینی عوام کی دیرینہ آرزوؤں کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے:

● سب سے پہلی شرط یہ رکھی گئی کہ مغربی کنارہ اور غزہ پٹی کا کوئی بھی حصّہ اسرائیلی قبضے میں نہ رہے، کیونکہ آزادی کی بنیاد ہی زمین پر خودمختاری سے استوار ہوتی ہے۔

● دوسری شرط تھی کہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اشتعال انگیز کارروائیوں کو روکا جائے، کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے آئے دن آگ بھڑکائی جاتی ہے اور پورے خطے کا امن متاثر ہوتا ہے۔

● تیسری شرط یہ تھی کہ غزہ میں ریلیف ٹرکوں کی آمدورفت پر سے پابندیاں فوری ہٹائی جائیں تاکہ بھوکے، پیاسے اور زخمی عوام کم از کم زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم نہ رہیں۔

بظاہر مصر نے اس موقع پر عملی قدم بھی اٹھایا ہے۔ اس نے فلسطینی اتھارٹی کے پولیس دستوں کو اپنی سر زمین پر بلاکر ٹریننگ دینی شروع کر دی ہے تاکہ وہ آنے والے دنوں میں غزہ کے نظم و نسق کو سنبھال سکیں۔ یہ اقدام گویا ایک عملی اشارہ ہے کہ بات صرف اجلاسوں اور بیانات تک محدود نہیں بلکہ میدانِ عمل میں بھی کچھ پیش رفت ہو رہی ہے۔

اب نگاہیں اس ہفتے ہونے والی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات پر جمی ہیں۔ یہ ملاقات اس لحاظ سے فیصلہ کن قرار دی جا رہی ہے کہ اگر اسرائیل اس منصوبے پر آمادہ ہو جائے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تمام کوششیں محض ایک اور سراب ثابت ہوں، جیسے کہ ماضی میں کئی امن معاہدے اور مذاکرات تاریخ کے صفحات میں دفن ہو گئے۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے زور پر قوموں کو دبا تو دیا جاتا ہے، لیکن مٹایا نہیں جا سکتا۔ جس طرح اندلس کی محرابوں سے اٹھنے والی اذانیں صدیوں بعد بھی انسان کو جھنجھوڑ دیتی ہیں، اسی طرح فلسطین کے زخمی دل سے اٹھنے والی فریادیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو شاید آنے والی نسلیں اس دن کو یاد رکھیں کہ کب پہلی مرتبہ عالمی طاقتوں اور عرب دنیا نے مل کر غزہ کے زخموں پر مرہم رکھنے کی سعی کی تھی۔

یہ جدوجہد اور یہ فریاد محض آج کی پیداوار نہیں بلکہ ایک صدی پر محیط قربانیوں اور صدمات کی کہانی ہے۔ بالفر اعلامیہ (1917ء) میں پہلی بار فلسطینی عوام کی زمین پر یہودی ریاست قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کا تقسیم منصوبہ (1947ء) آیا تو فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں بانٹ دیا گیا، مگر فلسطینی عوام اس تقسیم کو کبھی قبول نہ کر سکے۔

1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے نہ صرف غزہ اور مغربی کنارے پر قبضہ کیا بلکہ بیت المقدّس کو بھی اپنی عمل داری میں لے لیا۔ یہی وہ جنگ ہے جس کے بعد فلسطینی پناہ گزینوں کا سب سے بڑا بحران پیدا ہوا۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف پچھلے سال غزہ میں ہزاروں معصوم بچّے اور خواتین شہید ہوئیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہیں اور اقوام متحدہ کے ریلیف ادارے (UNRWA) کے کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) متعدد بار اعلان کر چکا ہے کہ غزہ میں صحت کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے، اسپتالوں میں دوائیں اور بجلی تک ناپید ہیں۔

اقوام متحدہ نے اب تک فلسطین کے حق میں 50 سے زائد قراردادیں منظور کی ہیں، لیکن بیشتر پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ امریکہ اور یورپ اکثر اسرائیل کے اقدامات کی مذمت تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر اسرائیل کو عسکری اور معاشی امداد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیاء کے متعدد ممالک کھل کر فلسطین کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ بعض مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں (ابراہام معاہدے وغیرہ)، جب کہ عوامی سطح پر شدید مخالفت موجود ہے۔

فلسطین کے مسئلے نے مسلم دنیا میں سیاسی وحدت کی ضرورت کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وجود کے باوجود فلسطین کو وہ حمایت نہیں مل سکی جس کی اس کو ضرورت تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں فلسطین کا مسئلہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔

اگر ٹرمپ کا منصوبہ واقعی عدل و انصاف پر مبنی ہوگا تو یہ ایک تاریخی موڑ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ محض طاقت کے توازن اور وقتی مصلحت پر کھڑا کیا گیا تو اس کی حیثیت بھی ماضی کے ناکام معاہدوں سے زیادہ نہ ہوگی۔ فلسطین کا مسئلہ صرف عرب یا مسلم دنیا کا نہیں بلکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ جو طاقتیں انصاف کے بغیر امن قائم کرنے کی کوشش کریں گی، وہ خود تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہوں گی۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن و عدل کا قیام محض سیاسی مصلحت نہیں بلکہ ایک شرعی تقاضا ہے۔ قرآنِ کریم نے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلوم کی نصرت کرنا اُمّتِ مسلمہ کی بنیادی ذمّہ داری قرار دیا ہے: تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللّٰہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچّوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعا کرتے ہیں: اے ہمارے ربّ! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔ (النساء: 75)۔ یہ آیت آج بھی غزہ کی گلیوں اور فلسطین کے شہیدوں کی قبروں سے صدا دے رہی ہے کہ انصاف کے بغیر کوئی امن حقیقی نہیں ہو سکتا۔

دنیا کے بڑے فیصلے جب اللّٰہ کے احکام سے ہٹ کر صرف طاقت اور سیاست کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں تو وہ دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ قرآن کا اعلان ہے: یقیناً اللّٰہ فساد کرنے والوں کے عمل کو درست نہیں کرتا (یونس: 81)۔ لہٰذا اگر ٹرمپ کا پیش کردہ منصوبہ یا عرب دنیا کی شرائط انصاف اور انسانی حرمت کی بنیاد پر استوار ہوں تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ غزہ کے مظلوموں کے زخموں پر مرہم بنے گا۔ بصورتِ دیگر یہ بھی محض ایک اور سیاسی تماشا ہوگا جو وقت کی گرد میں دب کر رہ جائے گا۔

اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ امن اور عدل کی جدوجہد ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے، لیکن انجام کار حق ہی غالب آتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللّٰہ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے، لیکن جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں (صحیح بخاری)۔ یہی وہ یقین ہے جو فلسطین کے عوام کو زندہ رکھے ہوئے ہے، اور یہی ایمان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر آج کی قوتیں حق کو دبانے میں کامیاب دکھائی دے رہی ہیں تو یہ کامیابی وقتی ہے، دائمی نہیں۔ اگر یہ منصوبہ قرآن کے عدل اور سنّت کے امن کے اصولوں کے مطابق ڈھلتا ہے تو یہ نہ صرف غزہ بلکہ پوری اُمّتِ مسلمہ کے لیے ایک نئی صبح کی نوید ہوگا۔ ورنہ تاریخ یہ گواہی دے گی کہ ایک بار پھر انسانیت نے مظلوموں کے خون کے ساتھ بے وفائی کی۔

🗓 (25.09.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Related Post