2026-10-24

اٹکور: ملت اسلامیہ ہائی اسکول میں یوم اساتذہ کا انعقاد۔

اٹکور 5 ستمبر(سماجی خبریں):ملت اسلامیہ ہائی سکول میں یوم اساتذہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت خورشید گدوال نے کی۔ جس میں مہمان خصوصی امیر فیصل ندوی خطیب و امام جامع مسجد پنچ اور محمد مصعب عمری خطیب و امام مسجد محمدیہ سلفیہ نے شرکت کی۔

مصعب عمری نے طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ آج ایک دن یوم اساتذہ منانا کافی نہیں ہے بلکہ روزانہ اپ کو اپنے اساتذہ کا احترام اور عزت کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے قران و حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قران مجید کی سب سے پہلی ایت میں پڑھنے کا حکم دیا گیا لہذا کی دلیل ہے کہ اس امت کا مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں معلم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

­

امیر فیصل ندوی نے کہا کہ استاد صرف ایک شخص کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی قوت ہے جو نسلوں کی تعمیر کرتی ہے۔ ایک اچھا استاد کتاب کے صفحات پر لکھی ہوئی عبارتیں ہی نہیں پڑھاتا، بلکہ انسان کے اندر سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

وہ ایک معمولی طالب علم کو باصلاحیت انسان، ایک کمزور ذہن کو مضبوط فکر اور ایک بے سمت زندگی کو مقصد عطا کرسکتا ہے۔

دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو بڑے بڑے انقلابات کے پیچھے کسی نہ کسی عظیم استاد، مربی یا رہنما کی تربیت نظر آتی ہے۔ ایک استاد کا قلم بظاہر چھوٹا ہوتا ہے، مگر اس کے ذریعے وہ ایسے ذہن تیار کرتا ہے جو آنے والے کل کی تاریخ لکھتے ہیں۔

ایک ڈاکٹر، انجینئر، عالم، دانشور، قائد یا مصلح کی شخصیت کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کی محنت ضرور شامل ہوتی ہے۔
استاد کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے شاگرد کو صرف کیا سوچنا ہے نہیں بتاتا، بلکہ اسے کیسے سوچنا ہے سکھاتا ہے۔

وہ اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتا ہے، اس کی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے اور اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ اپنے حالات کو بدل سکتا ہے۔ اسی لیے ایک مخلص استاد بسا اوقات پوری نسل کا رخ بدل دیتا ہے۔

لیکن جب ہم تاریخ کے عظیم ترین معلم اور مربی کی بات کرتے ہیں تو دنیا کی نگاہیں ایک ایسی مقدس شخصیت پر ٹھہر جاتی ہیں جنہوں نے صرف چند افراد نہیں بلکہ پوری انسانیت کی فکر، کردار اور زندگی کا رخ بدل دیا۔ وہ عظیم ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔

آپ ﷺ سب سے بڑے معلم تھے۔ آپ ﷺ نے علم کو اخلاق سے، تعلیم کو عمل سے اور تربیت کو کردار سے جوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہؓ کو صرف باتیں نہیں سکھائیں، بلکہ اپنی زندگی کے ذریعے عملی نمونہ پیش کیا۔ جو شخص آپ ﷺ کی مجلس میں آتا، وہ صرف معلومات لے کر نہیں جاتا تھا، بلکہ اپنے اندر ایک نئی زندگی کا احساس لے کر اٹھتا تھا۔آپ ﷺ کے تربیت یافتہ افراد ہی آگے چل کر دنیا کے عظیم ترین داعی، معلم، قائد اور مصلح بنے۔

حضرت ابوبکرؓ کی صداقت، حضرت عمرؓ کا عدل، حضرت عثمانؓ کی حیا، حضرت علیؓ کا علم و شجاعت اور دیگر صحابہؓ کی بے مثال قربانیاں اسی نبوی تربیت کا نتیجہ تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کا اثر صرف ایک دور تک محدود نہیں رہا۔ آپ ﷺ نے ایسے انسان تیار کیے جنہوں نے اپنے کردار سے ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھی اور دنیا کے سامنے عدل، رحم، علم، اخلاق اور انسانیت کا ایک نیا تصور پیش کیا۔

اس موقع پر طلبہ و طالبات نے تعلیمی مظاہرہ کرتے ہوئے اساتذہ کی اہمیت کو بیان کیا ۔ اس موقع پر مہمان بشیر احمد، محمد رفیع امرچنتہ سابق ہیڈ ماسٹر، محمد اسحاق ہیڈماسٹر ملت اسلامیہ ہائی اسکول اوٹکور، محمد تقی ٹیچر ، محمد انور باگو ، محمد واحد ٹیلر گدوال موجود تھے۔

Related Post