حیدرآباد28اگست(ایجنسی):دی ٹائمس آف انڈیا نیوز کے مطابق تلنگانہ حکومت نے طویل عرصے سے قانونی تنازعات میں گھری پیگاہ (Paigah) اراضی کے معاملے میں اہم پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے مخصوص شرائط کے ساتھ جائیدادوں کی رجسٹریشن کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے حیدرآباد کے حفیظ پیٹ، کونڈاپور اور ہائی ٹیک سٹی کے اطراف کے علاقوں میں موجود ہزاروں جائیداد مالکان کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومت کو اس اقدام سے تقریباً 1000 کروڑ روپے کی رجسٹریشن آمدنی حاصل ہونے کی امید ہے۔
پیگاہ اراضی کا تنازع گزشتہ چھ دہائیوں سے جاری ہے۔ تقریباً 1500 ایکڑ پر پھیلی یہ اراضی رنگاریڈی اور میڑچل-ملکاجگیری اضلاع میں واقع ہے۔ حکام کے مطابق ان اراضی میں سے تقریباً 600 ایکڑ پر پہلے ہی مکانات، اپارٹمنٹس اور دیگر تعمیرات قائم ہوچکی ہیں۔
حفیظ پیٹ میں بڑے پیمانے پر تعمیرات
حفیظ پیٹ کے سروے نمبر 77 سے 80 تک کی زمینیں اس تنازع کا اہم حصہ ہیں۔ حکام کے مطابق صرف سروے نمبر 80 میں موجود 484 ایکڑ اراضی میں سے تقریباً 430 ایکڑ پر عمارتیں، اپارٹمنٹ کمپلیکس اور گیٹیڈ کمیونٹیز قائم ہوچکی ہیں، جبکہ صرف تقریباً 50 ایکڑ زمین خالی باقی ہے۔
حکومت کے مطابق بعض معاملات میں عدالتوں، حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بعد بھی جائیدادوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ بعض دیگر معاملات میں عدالتی احکامات کی بنیاد پر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) کی جانب سے بلند عمارتوں کی تعمیر کی اجازت بھی دی گئی تھی۔
CS-14 اور CS-7 اراضی پر فیصلہ
ریونیو وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ حکومت CS-14 اور CS-7 کے تحت آنے والی اراضی کو رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 22-A کے تحت ممنوعہ فہرست سے نکالنے اور ’مشروط رجسٹریشن‘ کی اجازت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
اس مشروط رجسٹریشن میں دستاویزات پر واضح طور پر درج ہوگا کہ جائیداد کے ملکیتی حقوق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمات کے حتمی فیصلے سے مشروط رہیں گے۔
ریونیو ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری ڈی ایس لوکیش کمار کے مطابق CS-14 اور CS-7 اراضی سے متعلق ہدایات مختلف عدالتی فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس ٹو کیس بنیاد پر جاری کی جائیں گی۔
تنازع کی تاریخ 1958 سے جڑی ہے
رپورٹ کے مطابق اس اراضی کے قانونی تنازعات کی جڑیں 1958 تک جاتی ہیں۔ CS-14 مقدمہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس کا تعلق نواب خورشید جاہ پیگاہ کی ماتروکہ جائیدادوں کی تقسیم سے ہے۔
وقت کے ساتھ مختلف عدالتوں نے متعدد جائیدادوں کے بارے میں حتمی فیصلے دیے، جن میں سے کئی فیصلوں کو سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ تاہم ریاستی حکومت بعض اراضی پر اب بھی ملکیتی دعوے برقرار رکھتی ہے۔
تلنگانہ حکومت بعض گروکل ٹرسٹ اور ایپا سوسائٹی کی اراضی پر بھی رجسٹریشن کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایک طرف ہزاروں جائیداد مالکان کو قانونی دستاویزات حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرسکتا ہے، جبکہ دوسری جانب برسوں سے زیرِ التوا اراضی تنازعات کے باعث ملکیتی حقوق کے بارے میں قانونی پیچیدگیاں برقرار رہنے کا امکان بھی ہے۔

